باپ اوربیٹاکرکٹ کھیل رہے تھے والدبیٹے کادل رکھنے کے لیے جان کوبوجھ کرہاررہاتھا،بیٹاجیت کی سرشاری میں خوش تھا،نعرے مارتاجارہاتھااور

روزنامہ اوصاف  |  Oct 18, 2020

باپ اوربیٹاکرکٹ کھیل رہے تھے والدبیٹے کادل رکھنے کے لیے جان کوبوجھ کرہاررہاتھا،بیٹاجیت کی سرشاری میں خوش تھا،نعرے مارتاجارہاتھااورباپ مسلسل ہارتاجارہاتھا،دس برس کی پیاری بیٹی بینچ پربیٹھی سارامنظردیکھ رہی تھی ،وہ ابوکی مسلسل ہارسہہ نہ پائی دوڑ کرباپ سے لپٹی اورروتی ہوئی بولی ابومیرے ساتھ کھیلیں آپ کوجتوانے کے لیے میں ہاروں گی۔بیٹیاں توپریوں کے جیسی ہوتی ہیں اللہ کی رحمت بن کرماں باپ کے آنگن میں اترتی ہیں ،اپنی باتوں سے اپنی چہکارسے ،آنگن کومہکاتی اوررونق بخشتی ہیں۔پھرایک دن یوں پریوں کی طرح چلی جاتی ہیں کسی اورکے آنگن کورونق بخشنے کے لیے ،پریاں بھلاہمیشہ کب ساتھ رہتی ہیں ،یہ پریاں توبس کچھ دیرکے لیے بسیراکرتی ہیں لیکن اپنی خوشبواوریادیں ہمیشہ کے لیےچھوڑ جاتی ہیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More