پاکستان کو قرض اتارنے کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے

وائس آف امریکہ اردو  |  Oct 23, 2020

اسلام آباد — پاکستان کے ایک غیر سرکار ی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفامز کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان اپنے گزشتہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض حاصل کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال ملکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک کی طرف سے قبل ازیں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران ملک کے قرضوں کے حجم میں 14 کھرب سے زائد اضافے کے بعد جون 2020 کے آخر تک پاکستان کے مجموعی واجب الادا قرضوں کا حجم 44 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے متعلق غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2020 کے اختتام تک توانائی کے شعبے میں پاکستان کے گردشی قرضے 21 سو ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر خان کی سرپرستی میں کام کرنے والے غیر سرکاری تھینک ٹینک انسٹی ٹیٹو ٹ فارپالیسی ریفارمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ صورت حال ملک میں مالی معاملات کے بہتر انتظام کار اور پیدواری شعبے میں شرح نمو کو بڑھانے کی استعداد کار کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

اگرچہ موجودہ حکومت کا موقف رہا ہے کہ اسے قرضوں کا بوجھ گزشتہ حکومتوں سے ورثے میں ملا ہے اور حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے سال ملک میں قرضوں کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے کئی پروگرام وضح کیے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ پاکستان کے معاشی چیلنج مزید گھمبیر ہو گئے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بجلی کے شعبے کے قرضوں اور نقصانات اور پاکستان میں بڑھتا ہوا قرض تشویش کا باعث ہے اور حکومت کے لیے ان معاملات سے نمٹنا ایک چیلنج ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے تحت ہونے والے ایک آن لائن اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ کرونا وائرس نے پاکستانی معیشت کی کامیابیوں کو کم کرنے میں اثر انداز ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھ کہ اس صورت حال میں اگر حکومت اپنی معاشی اصلاحات جار ی رکھتی ہے تو محروم طبقات کے لیے وسائل اور ترقیاتی شعبے کے لیے وسائل کی فراہمی ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ تاہم مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے واضح کیا کہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے افراد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے حکومت کو مزید قرض کی ضرورت ہو گی کیونکہ شرح نمو میں کمی کے پیش نظر ٹیکس محصولات میں اضافہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More