سوشل میڈیا کے نئے رولز کا اطلاق ہوگیا

بول نیوز  |  Nov 19, 2020

پاکستان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی جانب سے  بنائے گئے نئے سوشل میڈیا رولز کا اطلاق  ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت آئی ٹی نے نئے سوشل میڈیا رولز ویب سائٹ پر جاری کردیے ہیں جن کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا ہے۔

وزارت ائی ٹی کی جانب سے  نئے سوشل میڈیا رولز کا نوٹی فیکیشن چند روز قبل جاری کیا گیا تھا  تاہم نوٹی فیکیشن جاری  کیے جانے کے باوجود وزارت نے سوشل میڈیا رولز پبلک نہیں کیے تھے۔

نئے سوشل میڈیا رولز  میں  آن لائن ہارم ٹو پرسن رولز کا نیا نام ریمول اینڈ بلاکنگ ان لاء فل آن لائن کونٹینٹ رکھا گیا ہے۔

نئے رولز کے مطابق اسلام، دفاع پاکستان، پبلک آرڈر کے بارے میں غلط معلومات،اور فحش مواد پر پابندی عائد ہوگی۔سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے وقار،سلامتی ودفاع کے خلاف مواد ختم کرنےکی پابند ہوں گی۔

یوٹیوب،فیس بک،ٹک ٹاک،ٹوئیٹر اور گوگل پلس سمیت تمام کمپنیاں رولز کی پابند ہوں گی۔5 لاکھ سے زائد صارفین والی سوشل میڈیا کمپنیوں کی پی ٹی اے میں رجسٹریشن لازم قرار دی گئی ہے۔

رولز نفاذ کے بعد سوشل میڈیا کمپنیاں 9ماہ میں پاکستان میں دفاتر قائم کرنے کی پابندہوں گی۔ سوشل میڈیا کمپنیاں رولز لاگو ہونے کے 3 ماہ کے اندر کوآرڈینشن کی خاطر فوکل پرسن مقرر کریں گے۔

رولز کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں 18 ماہ میں ڈیٹا بیس سرور قائم کریں گی۔

انتہا پسندی، دہشت گرد، نفرت انگیز مواد، فحش اور تشدد کی لائیو اسٹریمنگ پر پابندی ہوگی۔مذہب،توہین رسالت، حکومتی احکامات مخالف مواد پر بھی پابندی ہوگی۔

سوشل میڈیا کمپنیاں یا سروس پروائیڈرز کمیونٹی گائیڈ لائنز تشکیل دیں گے۔ گائیڈ لائنز میں یوزرز کو مواد کی اپ لوڈنگ سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔

کسی دوسرے شخص سے متعلق منفی رجحان کا کوئی مواد اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔دوسروں کی نجی زندگیوں کو متاثر کرنے والے مواد پر بھی پابندی ہو گی۔

مذہب اور پاکستان کے ثقافتی اور اخلاقی رجحانات مخالف مواد پر پابندی ہو گی۔بچوں کو متاثر کرنے والے ہر قسم کے مواد پر  بھی پابندی ہو گی۔

کسی شخص کی شخصیت کی نقل بنانے والے ،دفاعی اداروں اور دفاع پاکستان مخالف مواد پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔فرقہ وارانہ تشدد، نفرت انگیز مواد پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

سوشل میڈیا کمپنیاں فورمز پر گریوینس آفیسر مقرر کرکے رابطہ معلومات دیں گی۔ سوشل میڈیا فورمز اور سروس پروائیڈرز لائیو اسٹریمنگ، آن لائن میکنزم تشکیل دیں گی۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More