تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی انتقال کر گئے

العربیہ  |  Nov 21, 2020

دینی وسیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

ٹی ایل پی کے دوسرے گروپ کے سربراہ آصف جلالی نے خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق کردی۔ خاندانی ذائع نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خادم حسین رضوی کو گزشتہ چند روز سے بخار تھا اور جمعرات کو جب حالت زیادہ خراب ہوئی تو پہلے انہیں شیخ زاید ہسپتال منتقل کیا گیا مگر حالت زیادہ بگڑنے پر انہیں پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔ علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔ انتقال کے بعد ان کی میت کو ورثاء گھر لے گئے جبکہ گھر کے باہر بڑی تعداد میں ٹی ایل پی کے کارکن اور ان کے عقیدت مند جمع ہو گئے ہیں۔

خاندانی ذرائع نے مذید بتایا کہ اسلام آباد دھرنے کے دوران انہیں بخار ہو گیا جو دن بدن بڑھتا گیا تووہ گھر آ گئے اور اب ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ ٹی ایل پی کے دوسرے گروپ کے سربراہ آصف جلالی نے خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خادم حسین رضوی چوک یتیم خانہ لاہور میں اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سینیئر رہنما پیر اعجاز اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ نماز جنازہ کے حوالے سے اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے بھی خادم حسین رضوی کے موت کی تصدیق کرتے ہوے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی خادم حسین رضوی کو جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز واقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اللہ تعالی خادم حسین رضوی صاحب کو جنت میں جگہ عطا فرمائے - ان کے درجات بلند فرمائے - ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے - آمین

— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) November 19, 2020

تحریک لبیک پاکستان نے چند روز قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف اسلام آباد میں فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا تھا جس کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی نے کی تھی تاہم حکومتی ٹیم سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا۔ اس سے قبل 12 نومبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ سے متعلق کیس میں خادم حسین رضوی سمیت 26 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو نکہ توت ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جہلم ودینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔ انھیں عربی اور اردو کے علاوہ فارسی زبان پر بھی عبور تھا۔ عرصہ قبل ان کا ٹریفک حادثہ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ معذور تھے اور چل نہیں سکتے تھے۔

پاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سانحہ قرار دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More