سولر پینل لگانے اور چلانےکی افادیت

سماء نیوز  |  Nov 21, 2020

کراچی میں سال کے 12 ماہ سورج کی روشنی رہتی ہےجس کوتوانائی میں تبدیل کرکےبجلی حاصل کرنے کی خواہش کہنے سے زیادہ آسان نہیں۔ کراچی میں مکانات کی چھتوں پر جابجا سولر پینل لگےدکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو لگانے کےلیے اچھا خاصا خرچہ آتا ہے۔

اس کے فوائد یہ ہیں کہ نہ صرف آپ کا بجلی کا بل بچتا ہے بلکہ آپ اپنے گرڈ کو دوبارہ یونٹس بھی فروخت کرسکتے ہیں۔

ایکسائڈ ٹیکنالوجی کے ایاز دانش نے سولر پینل میں دلچسپی رکھنے والوں کےلیے کچھ بنیادی اہم باتیں بتائی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دو اقسام کے سولر سسٹم ہوتے ہیں جن کو آن گرڈ اور ہائیبرڈ کہاجاتاہے۔

آن گرڈ:۔

آن گرڈ سسٹم میں بجلی کے نظام سے منسلک رہتے ہیں اور دن کی روشنی میں اس بجلی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

فوائد:۔

جو بجلی آپ پیدا کررہے ہیں وہ اس بجلی سے زیادہ ہے جو آپ استعمال کررہے ہیں تو اضافی بجلی واپسی گرڈ کو بھیج دی جاتی ہے۔ اس بجلی کا حساب رکھنے کےلیے میٹر نصب کیا جاتا ہے۔

فوائد:۔

مہینے کےآخر میں جو بل صارف کے پاس آتا ہے اس میں وہ یونٹس شامل ہوتے ہیں جو استعمال کئے اور ان یونٹس کا حساب بھی ہوتا جو بجلی واپس گرڈ کو بھیجنے سے حاصل ہوئے۔اگر بھیجے گئے یونٹس استعمال ہونے والے یونٹس سے زیادہ ہوئے تو صارف کو ادائیگی بھی کی جاسکتی ہے۔

اگرآپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی توآپ آن گرڈ سسٹم کو استعمال کرسکتےہیں۔اس میں بیک اپ کی سہولت نہیں ہوتی اور اس لئے اس میں شمسی توانائی جمع کرنے کا نظام بھی نہیں ہوتا۔

فوائد:۔

یہ مالی اعتبار سے بہتر رہتا ہے کیوں کہ اس میں ہر دو تین سال بعد بیٹریاں تبدیلی کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔

ہائیبرڈ سسٹم:۔

اس نظام میں بیٹریوں کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورت میں بیک اپ کی سہولت مل سکے۔

سولر پینل سسٹم پر کیا لاگت آتی ہے؟

کوئی بھی اچھا سولرپینل سسٹم تقریبا 25 سال تک چل جاتا ہے۔اس سسٹم میں فی کلو واٹ کی لاگت 85 ہزار سے 90 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ اگر آپ 10 کلوواٹ کا سسٹم لگانے کا سوچ رہے ہیں تو آن گرڈ سسٹم کی لاگت تقریبا 9 لاکھ روپے تک آسکتی ہے۔ اگر آپ ہائیبرڈ سسٹم لگوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تواس میں بیٹریاں شامل کرکے2 لاکھ سے 3 لاکھ کا اضافہ ہوجائےگا۔

سولر پینل سسٹم کے لیے چھت پر کتنی جگہ درکار ہوتی ہے؟

اوسطا ایک کلوواٹ بجلی کےلیے چھت پر 130 مربع فٹ جگہ درکارہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ 10 کلوواٹ سسٹم کےلیے 240 گز کے مکان کی چھت کافی ہوتی ہے۔

اس نکتے کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ چھت پر سورج کی روشنی براہ راست پڑرہی ہو۔ آپ کے مکان کے اطراف آپ کی چھت سے بلند عمارتیں نہ ہوں تاکہ سورج کی روشنی آنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ چھت پر کوئی سایہ نہ ہو تاکہ سولر پینل پر براہ راست روشنی آسکے۔

سولر پینل کی دیکھ بھال کتنی دشوارہوتی ہے؟

سولر پینل کی دیکھ بھال میں مشکلات نہیں درپیش ہوتی ہیں۔آپ کوپینل پرمٹی نہیں جمنے دینی ہوتی۔ جب پینل پر مٹی کی تہہ جم جاتی ہے تو اس کی سورج کی روشنی جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ ہفتے میں دو بار پینل کو پانی یا وائپر سے صاف کیا جاسکتا ہے۔

سولر پینل لگنے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

سولر پینل لگنے میں 10 روز لگتے ہیں۔ اس میں وائرنگ اور کنکشن کا مکمل نظام شامل ہے۔ تاہم نیٹ میٹرنگ میٹر کی تنصیب میں 5 ماہ لگ جاتے ہیں۔

جب سولر پینل کا نظام لگ جاتا ہے تو آپ کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے نام ایک درخواست بھیجی جاتی ہے۔ کراچی میں یہ درخواست کے الیکٹرک کو بھیجی جاتی ہے۔ ایک ماہ کے اندر کےالیکٹرک کا نمائندہ آپ کے گھر آکر سولر پینل کی آپ کے گھر کے لحاظ سے افادیت کو جانچتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو نیٹ میٹر کےلیے لاگت کا تخمینہ بتایا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ میٹر تقریبا 67 ہزار میں لگتا ہے۔ اس کے بعد آپ کی درخواست منظوری کےلیے نیپرا کوبطور بجلی پیدا کرنے والے صارف بھیجی جاتی ہے۔ نیپرا کو اس درخواست پر 3 ماہ کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More