پشاور:حکومتی اجازت نہ ملنےکےباوجودپی ڈی کاجلسہ آج ہورہاہے

سماء نیوز  |  Nov 22, 2020

پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ ( پی ڈی ایم) کا جلسہ آج ہو رہا ہے۔ مقامی قائدین کی جانب سے پنڈال میں 10 ہزار کرسیاں لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پشاور کے مرکزی علاقے کبوتر چوک رنگ روڈ پر جلسے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ جلسے کا آغاز صبح 11 بجے ہوگا۔ جلسہ گاہ اور اطراف کے علاقے کو پارٹی چموں سے سجا دیا گیا ہے۔

ٹریفک پلانپشاور جلسے کے موقع پر عوام کی سہولت کیلئے متبادل روڈ پلان بھی جاری کردیا گیا ہے۔

موبائل فون سروسجلسہ گاہ کے اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی کے پیش نظر موبائل فون سروس صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک معطل رہے گی، جب کہ اطراف کی سڑکیں بھی ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہیں۔

جلسے کا اسٹیجضلعی انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے باوجود کبوتر چوک میں سڑک کے بیچوں بیچ اسٹیج تیار کرلیا گیا ہے۔ پارٹی قائدین کیلئے 120 فٹ لمبا، 30 فٹ چوڑا اور 8 فٹ اونچا اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔

۔10ہزار کرسیاں لگانے کا دعویٰجلسے میں لائٹس کا انتظام بھی ہوگا، جب کہ آڈیو سسٹم بھی لگایا جا رہا ہے۔ رنگ روڈ پر قائم پنڈال میں 10 ہزار کرسیاں لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں 4 بڑی اسکرینیں بھی نصب کی گئی ہیں۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں پی ڈی ایم کو آرڈینیٹر خیبر پختونخوا عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ پشاور جلسے میں پی ڈی ایم کی تمام مرکزی قیادت موجود ہوگی، جس میں مولانا فضل الرحمان، افتخار حسین، مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، اویس نورانی، اختر مینگل، محمود خان اچکزئی اور دیگر قائدین شامل ہیں۔

فائل فوٹو

سما ڈیجیٹل کی جانب سے جب محسن داوڑ کی شرکت سے متعلق سوال کیا گیا تو عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ ان کی شرکت کا فیصلہ مرکزی قیادت کو کرنا ہے۔ محسن داوڑ ویسے بھی پی ڈی ایم میں متحرک نہیں ہیں۔

سیکیورٹی انتظاماتپشاور میں پی ڈی ایم جلسے کے لیے 4 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار امن وامان کی ڈیوٹی سرانجام دینگے، جب کہ جے یو آئی کے انصار الاسلام کے دستے بھی تعینات ہوں گے۔ اے این پی کے رہنماء بھی سرخ لباس میں شرکت کریں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More