افغان طالبان کیلئے کام کرنیوالے خواتین کلر جیل سے رہا

سماء نیوز  |  Nov 22, 2020

بشکریہ نیویارک ٹائمز

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی جانب سے اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کیلئے کرائے کی قاتلہ کا کردار ادا کرنے والی 3 خواتین کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کے ترجمان نے الزامات کی تردید کردی۔

حقانی نیٹ ورک کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ باتیں سراسر الزام ہیں، ہم اپنی جماعت میں خواتین بھرتی نہیں کرتے اور نہ ہی خواتین کو ایسے کسی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے خواتین کو رہا کرنے کیلئے زور دیا جا رہا تھا، تاہم ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ عام خواتین ہیں اور افغانستان میں امریکی آپریشن کے دوران ان کے خاندان یا گھر کا کوئی نہ کوئی فرد طالبان سے منسلک رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے اہل خانہ کسی نہ کسی طور آپ کی مدد کرتے ہیں، مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم خواتین کو ہتھیار کے طور پر دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کو بھرتی کرنے، انہیں آپریشن میں حصہ لینے یا طالبان گروپوں میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ افغانستان کی جیل سے رہا ہونے والی تین خواتین دراصل حقانی نیٹ ورک کیلئے کام کرتی تھیں، جو اپنے پیار کے جھانسے میں ان آدمیوں کو پھنسایا کرتی تھیں جو کسی نہ کسی طور پر سیکیورٹی اداروں یا حکومت سے منسلک تھے۔

اے ایف پی کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ یہ خواتین اپنے پیار کے جال میں افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو پھانستی تھیں اور جال میں پھنسے کے بعد وہ انہیں فائرنگ کرکے قتل کر دیتی تھیں اور ان کی لاشوں کو قبرستان میں پھینک دیا جاتا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان خواتین کو امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے امن معاہدے میں شامل قیدیوں کے تبادلے اور رہائی کی شق کے تحت جیل سے رہا کیا گیا ہے۔

افغان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان خواتین سے متعلق اپنے سخت گیر رویہ اور قانون کے باعث مشہور ہیں، ایسے میں سیکیورٹی حکام کی جانب سے خواتین کی رہائی سے متعلق یہ باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ طالبان کے دور حکومت میں خواتین کے گھروں میں رہنے کی سخت ہدایات تھیں، انہیں تعلیم اور ملازمت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ایجنسی رپورٹ کے مطابق رہا ہونے والے خواتین میں مزگان اور ان کی رشتے دار نسرین شامل ہیں، جنہیں ستمبر کے ماہ میں جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی پانے کے بعد دونوں خواتین کی جانب سے حقانی نیٹ ورک سے تعلق کا اعتراف کیا گیا۔ دونوں خواتین افغان جیل میں سیکیورٹی اہلکاروں اور خفیہ ایجنسہ کے ایجنٹ کے قتل کے الزام میں سزائے موت کی سزا کاٹ رہی تھیں۔

اے ایف پی سے گفتگو میں سیکیورٹی اہل کار نہ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نسرین کی بیٹی کو سیکیورٹی اہل کاروں کو نشانہ بنانے کیلئے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ نسرین کی بیٹی کو طالبان کمانڈر کے حکم پر ایسا کرنے کو کہا گیا تھا۔

کورٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق دونوں خواتین نے مل کر سیکیورٹی اہلکاروں کا قتل کیا اور اس کیلئے انہوں نے سائلینسر والی پستول استعمال کی۔ بعد ازاں وہ لاشوں کو میٹل کے ڈبے میں ڈال کر مقامی قبرستان میں پھینک دیتی تھیں۔ دستاویزات میں یہ بھی درج تھا کہ دونوں خواتین نے اپنے ایسے رشتے داروں کا بھی قتل کیا جو سیکیورٹی اداروں سے وابستہ تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں خواتین کو انتہا سے زیادہ پرتشدد اور سفاک قرار دیا گیا ہے۔ دونوں خواتین کو سال2016میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مزگام کا شوہر بھی ان کے ساتھ ملکر کام کیا کرتا تھا۔ رہائی کے بعد نسرین کا کہنا تھا کہ وہ دوبارہ ان کے گروپ میں شامل نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ اب تک امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت 5000 سے زائد افراد کو رہا کیا گیا ہے، جس میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

تھنک ٹینک اوورسیز ڈیویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار ایشلے جیکسن کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز کے بارے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے خواتین کو ہمیشن بند رکھنے اور گھروں تک محدود رکھنے کے بارے میں ہی دیکھا اور سنا گیا ہے۔

ایشلے کا مزید کہنا تھا کہ ایسے کیسز کا سننا افغان طالبان کے نظریہ کی نفی کرتا ہے۔ نسرین اور موزگام ان افغان قیدیوں کی فہرست میں شامل تھیں جنہیں انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ رہا ہونے والی ایک تیسری خاتون کا نام نرگس ہے، جو ایرانی شہری ہے، جس نے بعد ازاں افغان پولیس افسر سے شادی کی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More