کینسر کی 50 اقسام کی تشخیص کے لیے 'گیلری' ٹیسٹ کا منصوبہ

وائس آف امریکہ اردو  |  Dec 01, 2020

ویب ڈیسک — 

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) آئندہ برس جدید طریقے سے بلڈ ٹیسٹ کی آزمائش شروع کرے گی جس سے کینسر کی 50 سے زائد اقسام کی تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سادہ سا ٹیسٹ ہو گا جسے 'گیلری' کا نام دیا گیا ہے جس کی بدولت سیکڑوں جانیں بچائی جا سکیں گی۔

یہ ٹیسٹ ایک لاکھ 65 ہزار افراد پر مشتمل ایک گروپ پر کیا جائے گا۔ گروپ میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد 50 برس سے زائد عمر کے ہوں گے جن میں کینسر کی کوئی علامت موجود نہیں ہوگی جب کہ 25 ہزار افراد 40 اور اس سے زائد عمر کے ہوں گے جن میں کینسر کا شبہ یا علامات ہوں گی۔

این ایچ ایس کے چیف ایگزیکٹیو سر سائمن اسٹیونز نے کہا ہے کہ کینسر کی تشخیص کے خلاف لڑائی میں یہ اہم موڑ ہے۔ گیلری ٹیسٹ سے ابتدائی مرحلے میں ہی کینسر کی تشخیص اور اس کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ کینسر کی کچھ اقسام مثلاً اورین کینسر اور پینکریٹک کینسر کے لیے ابتدائی تشخیص کا ٹیسٹ موجود نہیں۔ ہم دنیا کی پہلی ہیلتھ سروس بننا چاہتے ہیں جو سادہ بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ان اقسام کی تشخیص کرے گا اور اس سے علاج میں مدد ملے گی۔

اُن کے بقول کینسر کی ابتدائی تشخیص سے مریض کی زندگی بچانے کے امکان میں اضافہ ہو گا۔

تاہم ماہرین ہیلتھ کیئر کمپنی 'جی آر اے آئی ایل انکارپوریٹ' کے تخلیق کردہ بلڈ ٹیسٹ 'گیلری' سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

'کینسر ریسرچ یو کے' کے ارلی ڈیٹیکشن شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ کراس بی کے مطابق ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ ٹیسٹ اتنا حساس ہے کہ ایسے افراد میں کینسر کی نشاندہی کرے جن میں کینسر کی علامات موجود نہیں۔

اُن کے بقول گیلری ٹیسٹ اتنا جامع ہے کہ کوئی غلط الارم کا باعث نہ بنے۔ یہ سب جاننے کے لیے بڑے پیمانے پر آزمائش ضروری ہے۔

'کینسر ریسرچ یو کے' کے مطابق چھاتی کے کینسر کا شکار 90 فی صد خواتین کو کینسر کے ابتدائی مرحلے کے دوران ہی تشخیص ہونے پر بچایا جا سکتا ہے۔ مثلاً بریسٹ کینسر میں مبتلا 15 فی صد خواتین کی بیماری کا علم ایڈوانس اسٹیج پر ہوتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں مرض کی تشخیص سے پھیپھڑوں کے کینسر کے 80 فی صد مریضوں کی جان بچانے کا امکان موجود ہے جب کہ پھیپھڑوں کے کینسر کے 15 فی صد مریضوں کی تشیخص ایڈوانس اسٹیج پر ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More