مشکل وقت میں ایپل کے سربراہ کا ٹیسلا کے مالک سے ملنے سے انکار

ہم نیوز  |  Dec 23, 2020

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی کمپنی مشکل وقت سے گزر رہی تھی تو معروف امریکی کمپنی ایپل کے مالک ٹم کک نے ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ایلون مسک کا کہنا ہے کہ 2017 میں جب ان کی کمپنی بد ترین مالی بحران سے گزر رہی تھی تو انہوں نے ایپل کے سربارہ سے ممکنہ طور پر  ٹیسلا کمپنی کو خریدنے کے لیے  رابطہ کیا تھا تاہم ٹم کک نے ان سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

During the darkest days of the Model 3 program, I reached out to Tim Cook to discuss the possibility of Apple acquiring Tesla (for 1/10 of our current value). He refused to take the meeting.

— Elon Musk (@elonmusk)

ایلون مسک کے مطابق جب انہوں نے ایپل کے سربارہ سے رابظہ کیا تو اس وقت ٹیسلا  کمپنی اپنی ماڈل 3 الیکٹرک کار بنانے کے حوالے سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کررہی تھی اور وہ چاہ رہے تھے کہ ایپل ان کی کمپنی کے کچھ شیئرز خریدے، تاہم ایپل کے سربرہ نے ان سے ملاقات سے صاف انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: 

خیال رہے کہ اس سے قبل  ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو اگلے پانچ سال میں انسانی زبانوں کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایلون مسک نے یہ پیش گوئی پوڈ کاسٹ ‘دی جو روگن ایکس پیئرنس’ میں نیورو ٹیکنالوجی کی اپنی فرم ‘نیورا لنک’ کے بارے میں گفتگو کے دوران کی تھی۔

مسک نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کی کمپنی نیورا لنک چپ کو اگلے سال کے دوران انسانی دماغ سے جوڑنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔

فائیو جی ٹیکنالوجی ہماری زندگی میں کیا انقلاب لائے گی؟

مسک کے مطابق بیڑی پر چلنے والی یہ چپ انسانی کھوپڑی میں لگائی جائے گی اور اس کے الیکڑوڈز انسانی دماغ میں داخل کیے جائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ چپ دماغ میں کہیں بھی کام کر سکتی ہے اور نظر کی کمزوری پر بھی قابو پا سکتی ہے جبکہ دماغ کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گی۔

ان  کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بولنے کی ضرورت نہیں رہے گی البتہ جذبات کی ترجمانی کے لیے شاید ان کا استعمال جاری رہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More