پاکستان کے کن علاقوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں؟

اردو نیوز  |  Jan 22, 2021

'ترقی کے اس دور میں جہاں دنیا اب خودکار گاڑیوں کا کامیاب تجربہ کر رہی ہے، ہمیں اپنے عزیزوں سے فون پر رابطہ کرنے کے لیے گاؤں میں کسی اونچی جگہ کا رخ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے لوگوں کو کئی کلو میٹرز تک کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ' 

یہ کہنا ہے بلوچستان یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے طالب علم محمد انیس بلوچ کا جو خضدار سے چندکلو میٹر دوراپنے گاوں ’قلعہ مس‘ میں رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ تو دور موبائل سگنلز بھی کم کم ہی آتے ہیں۔ 

ایسی ہی صورتحال کا سامنا اندرون سندھ کے علاقے بخشاء پور کے نوجوان محمد اسفند اور  دیگر باسیوں کو بھی ہے۔ جہاں لوگ آج بھی اطلاعات ریڈیو سے حاصل کرتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کے 34 فیصد حصے کو آج بھی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ چونتیس فیصد حصہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقہ جات، بلوچستان کے دیہی علاقے، پہاڑی مقامات اور شورش زدہ حصے، اندرون سندھ بالخصوص اس کے صحرائی علاقے، جنوبی پنجاب کے کئی دیہات اور شمالی علاقہ جات سمیت گلگت بلتستان کے متعدد دیہات اور دور دراز مقامات پر مشتمل ہے۔

اندرون سندھ کے گاؤں بخشاء پورکے اسفند نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے علاقے کے لوگ انٹرنیٹ سے تقریبا نا واقف ہیں۔ 

’گاؤں کے میدانی علاقوں میں موبائل فون کے سگنلز بھی نہیں آتے جس کی وجہ سے رابطوں کا فقدان ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے سے یہاں کے طلبا کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں خاصی دشواری کا سامنا ہے۔‘ 

اسفند کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کے نوجوان حصول تعلیم کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر جب گاؤں آتے ہیں تو انٹرنیٹ نہ ہونے سے تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پاتے۔ بالخصوص کورونا کے بعد ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اب تقریبا تمام یونیورسٹیاں آن لائن تعلیم ہی فراہم کر رہی ہیں۔

محمد انیس بلوچ کے بقول ’انٹرنیٹ جیسی سہولت ان کے گاؤں اور علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک خواب ہے۔ جس کی تعبیر مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہی۔‘

انٹرنیٹ فراہمی میں آنے والی مشکلات 

پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا ذیلی ادارہ یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) جو عرصہ دارز سے ملک بھر میں انٹرنیٹ خصوصاً ملک کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی اور بہتری کے لیے کام کررہا ہے، کے ذریعے ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن کی سہولتوں کی فراہمی میں حائل مالی مسائل کا تدارک ہے۔

یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چوہدری حارث نے اردو نیوز بتایا کہ ان کا ادارہ انٹرنیٹ تک رسائی نہ رکھنے والے علاقوں کو جلد ٹو جی اور تھری جی سروس کی فراہمی اور تھری جی کی اپ گریڈیشن کے لیے ترجیحی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ’ملک کے بیشتر پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی اہم وجوہات موسم کی سختی ، دشوار گزار راستے اور متعلقہ سہولیات کا فقدان ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یو ایس ایف ملک بھر میں فائیبر آپٹکس بچھانے پر زور و شور سے کام کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں جلد کامیابی حاصل کر لی جائے گی۔ 

’ہماری دوسری ترجیح  پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے پہلے ملک بھر میں فائیبر آپٹکس کا جال بچھانا ہے۔‘ 

آئی ٹی کے ماہر عادل ابوبکر کہتے ہیں کہ شہروں میں انٹرنیٹ کی طلب پیدا کی گئی ہے جس کی وجہ سے مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں نے اپنے دفاتر بنائے اور لوگوں کو انٹرنیٹ فراہم کیا، لیکن پاکستان کے پسماندہ علاقوں  میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور اس کے لیے موجود طلب کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے ہمارے شہروں اور دیہی علاقوں کے درمیان واضح  سماجی فرق  ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی تاریخ 

پاکستان میں انٹرنیٹ کے سفر کا آغاز 1990کی دہائی میں ڈائل اپ ای میل نیٹ ورک سے ہوا جس میں قریب ایک دہائی تک مختلف تبدیلیوں کے بعد 2001   میں ڈی ایس ایل لانچ کیا گیا۔ 

2006 میں ملائشیا کی ایک نجی کمپنی کے اشتراک سے پاکستان کے مختلف شہروں میں فائبر آپٹک لائنز بچھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

سنہ 2005 سے 2006 کے درمیان ہی  موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے سم کارڈ پر چلنے والی انٹرنیٹ ڈیوائسز متعارف کروائی گئیں اور ساتھ ساتھ صارفین کو موبائل کنکشن پر ٹو جی اوربعد ازاں تھری جی انٹرنیٹ سروسز مہیا کی جانے لگیں۔ 

دور حاضر میں پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی فہرست میں دنیا کا دسواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ پاکستان میں اس وقت قریب76 ملین لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

اس وقت بہت سی پاکستانی کمپنیاں انٹرنیٹ کے ذریعے وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ملک کے تمام سرکاری و نجی بینک آن لائن بینکنک متعارف کروا چکے ہیں۔ تمام سرکاری اداروں کی ویب سائٹس بن چکی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹ بھی کی جاتی ہیں۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More