’الیکشن کمیشن کا فیصلہ منظور، حتمی فیصلہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کریں گے‘

اردو نیوز  |  Feb 25, 2021

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 75 کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کا فیصلہ منظور ہے، تاہم حتمی فیصلہ قانونی ٹیم گی۔‘

جمعرات کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’ہم حکومتی وسائل کو استعمال نہیں کریں گے۔‘

 اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان کی جنگ ہی یہ ہے کہ ہم نے اداروں کو پچھلی حکومتوں کی طرح بالخصوص مسلم لیگ نواز کی طرح استعمال نہیں کرنا۔‘

 

شبلی فراز نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس مائنڈ سیٹ کی شکست ہے جس کے اگر حق میں فیصلے آئیں تو وہ اسے صحیح سمجھتا اور مانتا ہے۔ اگر یہی ادارے ان کے خلاف فیصلہ کریں، چاہے وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ہو یا عدالتیں ہو، یہ اسے نہیں مانتے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انہیں صرف جیتنا قبول ہے، ہارنا انہیں قبول نہیں ہے۔ ہم نے اس بادشاہت کے مائنڈ سیٹ کو شکست دی ہے، آگے بھی دیں گے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے مسلم لیگ ن کے طرز سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ ن کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ چھانگا مانگا سے لے کر اب تک پیسے، دھونس اور بدمعاشی کی سیاست کی۔‘

انہوں نے ڈسکہ کے حوالے سے کہا کہ ’ہمیں پتا ہے کہ رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف اور احسن اقبال وہاں کیا کر رہے تھے۔ یہ سب حقائق عوام کے سامنے ہیں۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے دھاندلی کے الزامات پر کہا کہ ’اگر ہم نے دھاندلی کرنا ہوتی تو ہم وزیر آباد میں بھی کر سکتے تھے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ’مسلم لیگ ن کی درخواست 20 پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ پولنگ کی تھی لیکن اب اداروں کے فیصلوں کو مانتے ہیں، سر تسلیم خم ہے۔‘

وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی اور پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے این اے 75 کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر کہا ہے کہ ’اس سے زیادہ اداروں کی آزادی اور خود مختاری کی مثال پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں نہیں ملے گی۔‘

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More