دارالحکومت اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے: رحمان ملک

روزنامہ اوصاف  |  Feb 25, 2021

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر داخلہ و چئیرمن سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے صحت مند خوراک کا حصول پر تربیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت مند آبادی ملک کی معیار زندگی، اقتصادی اور معاشی ترقی کو بڑھاتی ہے، پاکستان میں بیماری میں اضافہ غیر محفوظ خوراک کیوجہ سے ہے، جس شرح سے پاکستان میں صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ خوراک نئی قسم کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں جن کا علاج مشکل ہے،محفوظ اور صحت مند خوراک کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو محفوظ اور حفظان صحت کے کھانے کی دستیابی کو یقینی بنائے، محفوظ اور صاف ستھری خوراک تمام بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کی پہلی لائن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  بدقسمتی سے ہمارے ملکوں میں غیر محفوظ اور غیر صحتمند اشیائے خورد و نوش فروخت ہو رہے ہیں، دارالحکومت سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے، یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے،  ہماری موجودہ قانونی نظام غذا میں ملاوٹ پر قابو پانے کے حوالے سے بہت کمزور ہے۔ انکا کہنا تھا کہ  ریستوراں اور اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی غیر محفوظ کھانا پیش کیا جارہا ہے، اسکولوں اور کالجوں کے باہر ریڑھیوں پر غیر معیاری کھانے کی اشیاء اور مشروبات فروخت ہورہے ہیں،۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر صحتمند کھانا ہمارے بچوں کی صحت کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے، 2018 میں بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کرنے کا نوٹس لیا تھا۔ رحمان ملک نے کہا کہ  ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کا گوشت اسلام آباد اور راولپنڈی میں فروخت کیا جا رہا ہے، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں  قانون سازی اور آئی سی ٹی فوڈ اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی تھی، 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More