روشنی ۔ ۔ ۔ کراچی کی سب سے خاص بات

سماء نیوز  |  Mar 02, 2021

فوٹو: آن لائن

کراچی کی سب سے خاص بات اس کا غریب پرور ہونا ہے، کہتے ہیں یہ شہر کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتا۔ آپ کا تعلق کسی بھی صنف یا ذات پات سے ہو اگر آپ محنتی ہیں تو آپ کو کام مل ہی جاتا ہے، یہاں آپ کو ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں کوئی آپ کی مدد کرتا ہے، ہے تو کوئی آپ کو حقیر سمجھتا ہے لیکن زندگی ہر رنگ میں ہی رواں رہتی ہے۔ کام کے سلسلے میں میرا اکثر کہیں نہ کہیں جانا رہتا ہے اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی کہانی میری منتظر ہوتی ہے ایسا ہی اس دن ہوا جب میں کورنگی اپنے ایک دوست سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے گئی۔ اس کی گلی میں ایک دکان دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی۔

حیرانی کی بات یہ تھی کہ اسے ایک نوجوان لڑکی چلا رہی تھی اور دکان کا نام تھا ’’10 روپے شاپ‘‘۔ میں دکان کے قریب گئی تو یہاں بہت ساری چیزیں نظر آئیں، سیفٹی پنز کا پیکٹ، کاٹن بڈ، کلپس، ربر بینڈ، چھوٹے چھوٹے کھلونے اور بے شمار چیزیں، ہر چیز کی قیمت بس 10 روپے تھی۔ یعنی آپ 10 روپے میں کوئی بھی ایک چیز لے سکتے تھے۔ میں دلچسپی سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی کہ اتنے میں لڑکی نے کہا کہ باجی یہ باسکٹ لے لیں اور جو جو چیز آپ کو پسند آئے وہ اس میں ڈالتے رہیں۔ میں نے لڑکی کی جانب دیکھا اور ایک تاسف کی لہر میرے اندر دوڑ گئی۔ کیوں کہ اس لڑکی کا چہرہ جھلسا ہوا تھا۔ میں نے نرمی سے اس کی خیریت دریافت کی اور اسکے بارے میں جاننا چاہا، اس نے کہا کہ چھوڑیں آپ کیا کریں گی جان کر، میں نے اسے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں اگر آپ مناسب سمجھیں تو بتائیں میں آپ کی کہانی لکھنا چاہوں گی۔ اس لڑکی نے میری جانب دیکھا اور بولی کہ بابا نے سختی سے منع کیا ہے میڈیا والوں سے بات کرنے کا مگر میں نے اسکو یقین دلایا کہ میں ویڈیو یا تصویر نہیں بناؤں گی۔

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد وہ بولنا شروع ہوٸی اس نے بتانا شروع کیا کہ میرا نام روشنی ہے، اسی گلی میں میرا گھر ہے اور میرے والد ایک بینک میں ملازم ہیں اور میں اس حادثے سے پہلے کالج میں فرسٹ کی طالبہ تھی۔ وہاں میری ایک بہت اچھی دوست تھی جس کے ساتھ میرا آنا جانا ہوتا تھا، اس کی منگنی ہو چکی تھی پھر نا جانے کیا مسائل ہوئے کہ اس کی منگنی ٹوٹ گئی اور اس کے منگیتر نے اس بات کو اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور میری دوست سے بدلہ لینے کے لیے اس کے منہ پر تیزاب پھینکنے کا منصوبہ بنایا۔ جس دن وہ میری دوست پر تیزاب پھینکنے آیا اس دن اتفاق سے میری دوست نے میری طرح کا ہی عبایا پہنا ہوا تھا۔ ہم اسٹاپ پر کھڑے تھے وہ آیا اور اس نے تیزاب پھینکا جو میری دوست کے بجائے میرے چہرے پر گرا جس سے میرا چہرہ جگہ جگہ سے جل گیا، بعد میں وہ لڑکا تو گرفتار ہوگیا، اسے سزا بھی ہو گئی لیکن مجھے لگا کہ جیسے میری زندگی برباد ہوگئی۔ میرا پورا تعلیمی سال برباد ہوگیا اور میرے گھر والے سخت تکلیف میں تھے کہ اب کیا ہوگا۔ میری تعلیم کا کیا ہوگا کیوں کہ لوگ تو یقین نہیں کرتے۔ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ میری اسں لڑکے سے کوئی دشمنی ہوگی لیکن میرے ابو نے میرا بہت ساتھ دیا۔

میں نے کالج جانا شروع کیا اور اپنے آپ کو مصروف کرنے کے لیے یہ شاپ کھولی، میں چاہتی ہوں کہ میں کسی بھی طرح اپنی زندگی بامقصد بناؤں۔ 10 روپے شاپ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کے پاس وسائل نہیں اور آمدنی کم ہے لیکن 10 روپے میں کوئی بھی چیز ایک ایسی کشش ہے جو انہں کم پیسوں میں ایک چھوٹی سی خوشی دے دیتی ہے۔ میں دوپہر میں آ کر یہ دکان کھولتی ہوں اور میرے پاس زیادہ تر بچے ہی آتے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اپنے اس کام کو بڑے پیمانے پر کروں لیکن میرے والد کا کہنا ہے کہ ابھی میں اس دکان سے سیکھوں اور جب تجربہ ہو جائے تو اس کام کو بڑھایا جائے۔ میں 10 روپے میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنا چاہتی ہوں۔ وہ کہی جارہے تھی اور میں بہت فخر سے اس باہمت لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More