کرونا وبا کا دباؤ اور پریشانی، تمباکو نوشی کے خلاف کوششیں بھی متاثر

وائس آف امریکہ اردو  |  Mar 29, 2021

ویب ڈیسک — 

عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں وبا کے باعث بے شمار لوگوں کو دباؤ اور ذہنی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک امریکہ میں ویکسی نیشن کے باوجود بھی تاحال صورتِ حال مکمل کنٹرول میں نہیں آ سکی۔

وبا کے باعث گھروں میں محصور لوگوں میں ذہنی اضطراب اور دباؤ سے متعلق مسائل بھی دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے تمباکو نوشی کے رحجان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول' (سی ڈی سی) کے مطابق امریکہ میں تمباکو نوشی سے سالانہ چار لاکھ 80 ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

'سی ڈی سی' کے مطابق امریکہ میں اس وقت تین کروڑ 41 لاکھ کے قریب بالغ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں جب کہ ایک کروڑ 60 لاکھ سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے دباؤ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں گزشتہ سال سگریٹ کے عادی بہت ہی کم افراد کی جانب سے تمباکو نوشی ترک کرنے والی ہاٹ لائنز پر کالز کی گئیں۔

محققین پہلے ہی کرونا وبا کے دوران کینسر کی اسکریننگ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں کیوں کہ وبا کے دوران امریکیوں کی جانب سے روٹین چیک اپ کرانے کے رُحجان میں بھی کمی آئی ہے۔

حکام کے مطابق تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے قومی ہاٹ لائن کو موصول ہونے والی کالوں کی تعداد 27 فی صد کم ہو کر پانچ لاکھ ہو گئی تھی جو کہ ایک دہائی میں سب سے کم ہے۔

SEE ALSO:امریکہ میں کرونا کی تیسری لہر کا خطرہ موجود ہے: ڈاکٹر فاؤچی کا انتباہ

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ڈاکٹر نینسی رگوٹی کا کہنا ہے کہ "یہ واقعی بے حد پریشان کن ہے کہ کوئٹ لائن کالز کی تعداد میں اتنی کمی آئی ہے اور یہ تعداد وہی ہے جس کی میں امید کر رہی تھی۔"

ہزار بالغ افراد پر مشتمل ایک سروے میں ڈاکٹر نینسی رگوٹی اور ان کے ساتھیوں نے یہ دیکھا کہ کرونا وبا کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ان میں سے تقریباً ایک تہائی افراد نے سگریٹ نوشی کی۔

لاس اینجلس کی ایلی کوم اسٹاک گزشتہ سات سالوں سے تمباکو نوشی نہیں کر رہی تھیں اور گزشتہ سال مارچ میں جب وبا کی وجہ سے ان کی نوکری ختم ہوئی تو انہوں نے بے روزگاری کے دوران دوبارہ سگریٹ پینا شروع کر دی۔

بتیس سالہ ایلی کوم اسٹاک نے کہا کہ سگریٹ پینے سے اُنہیں کچھ سکون ملا لیکن میں جانتی ہوں کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے جو بے چینی کی کیفیت سے چھٹکارا نہیں دلا سکتا۔

چند مہینے گرزنے کے بعد ایلی کوم اسٹاک نے سگریٹ چھوڑ دی، انہوں نے کہا کہ "نومبر میں مجھے احساس ہوا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، میں تمباکو نوشی کی عادی تھی اور میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔"

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareکرونا کے باعث ٹی بی کے خلاف کوششوں کو شدید نقصانEmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More