ترکی کی 'نہرِ سوئز': رجب طیب ایردوان کا 'کریزی پراجیکٹ'

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 08, 2021

ویب ڈیسک — 

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے نو برس قبل پیش کیے جانے والے آبی گزرگاہ کے ایک منصوبے پر ملک میں ان دنوں ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ حال ہی میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے ترک بحریہ کے 10 ایڈمرلز کو گرفتار کر کے تحقیقات کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔

ترک صدر نے 2011 میں 'استنبول کینال' منصوبے کا اعلان کیا تھا جسے وہ اپنا 'جنونی منصوبہ' (crazy project) قرار دیتے رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ موسمِ گرما میں اس منصوبے کے سنگِ بنیاد کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے تحت ترکی استنبول شہر کے درمیان سے 45 کلو میٹر طویل ایک مصنوعی گزرگاہ نکالے گا۔ اس حوالے سے ترکی کا مؤقف ہے کہ آبنائے باسفورس میں بحری ٹریفک کا رش ہونے کے باعث 'استنبول کینال' متبادل بحری راستے کے طور پر کام کرے گی۔

آبنائے باسفورس کا شمار دنیا کے مصروف ترین آبی راستوں میں ہوتا ہے جس کے باعث کئی مرتبہ بحری جہازوں کو گزرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ نہر سوئز میں بحری جہاز پھنس جانے کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے اس بات کو شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ آبنائے باسفورس جیسی مصروف بحری گزر گاہ کا متبادل ہونا ضروری ہے۔

استنبول کینال منصوبے کے حق میں یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ اس نہر سے گزرنے والے جہازوں سے فیس کی مد میں سالانہ ایک ارب ڈالر کی آمدن بھی متوقع ہے۔

استنبول کینال کا منصوبہ کیا ہے؟

استنبول شہر میں بنائی جانے والی مجوزہ کینال ایسی نہر ہو گی جو بحیرہ اسود اور بحیرۂ مرمرہ کو آپس میں ملا دے گی۔ یہ بحری مصنوعی بحری راستہ آبنائے باسفورس کے متوازی بنایا جائے گا۔

آبنا یا Strait خشکی کے بڑے زمینی علاقے کو آپس میں ملانے والی وہ آبی گزر گاہ ہوتی ہے جو دو بڑے پانی کے ذخائر کو آپس میں ملاتی ہے۔ ایسی گزرگاہوں میں بعض سفر کے قابل ہوتی ہیں اور بعض اس کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔

سفر کے قابل آبنا سے بڑے سمندری راستے مختصر ہوجاتے ہیں یا انہیں بحری راستوں کا شارٹ کٹ بھی کہا جاسکتا ہے۔

سفر اور تجارت کے لیے سمندری سفر طویل راستوں کو مختصر کرنے کے لیے ایسی آبی گزرگاہیں بنائی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک آبی گزرگاہ مصر میں واقع 'نہرِ سوئز' ہے جو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔

Direct link270p | 11.3MB360p | 17.1MB720p | 40.8MB

یاد رہے کہ بحیرۂ اسود کی سطح مرمرہ سے 50 سینٹی میٹر بلند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ استنبول کینال کی تکمیل کے بعد بحیرۂ اسود کا پانی مرمرہ میں ملنے سے آبی حیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحیرہ اسود سے مرمرہ میں پانی آنے کے باعث مرمرہ میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جائے گی۔

معاملے کے سیاسی پہلو

ترکی میں فوج 1960، 1980 اور 2016 میں بغاوت کی کوشش کر چکی ہے اور وہاں سیاست میں فوج کی مداخلت ایک مستقل سیاسی معاملہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 'استنبول کینال' منصوبے پر ایڈمرلز کا خط سامنے آنے پر صدر ایردگان نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو اپنے ایک بیان میں صدر ایردوان نے بحریہ کے سابق ایڈمرز کے خط کو 'سیاسی بغاوت' کا اشارہ قرار دیا تھا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ایک ایسا ملک جو فوجی بغاوت کی تاریخ رکھتا ہو وہاں رات کے اندھیرے میں 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز کا ایسا اقدام قابلِ قبول نہیں اور اسے آزادیٔ اظہار نہیں کہا جاسکتا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More