فوجیوں کی لوٹ مار کے الزامات، میانمار کی معاشی مصیبتوں میں مزید اضافہ

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 08, 2021

ویب ڈیسک — میانمار کے شہریوں کو فوجی حکومت کے اقتدار کے 65 دن گزرنے کے بعد خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے۔ منگل کے دِن ریڈیو فری ایشیا سے بات کرتے ہوئے میانمار کے شہریوں نے الزام لگایا کہ فوجی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے سامان لانے والے ٹرکوں کو لوٹ رہے ہیں اور ان سے نقدی چوری کر رہے ہیں۔

میانمار کے شہر کیاک پیڈانگ میں ایک رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے اس کی کار کو روک کر بقول اس کے گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھے پرس میں سے پانچ لاکھ کیاٹ نکال لئے۔

میانمار جنوب مشرقی ایشیا کا غریب ترین ملک ہے، جس کی مجموعی قومی پیداوار 1،300 ڈالر فی کس ہے۔

عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے، گھریلو سطح پر اور کاروباروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ میانمار کا ذراعتی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے جو ملک کی نصف آبادی کو ملازمت اور مجموعی پیداوار کے پانچویں حصے کا ذمہ دار ہے۔ جنتا کی بغاوت اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی سول نافرمانی سے معاشی سرگرمیوں کو مزید نقصان پہنچا ہے۔

فوج کی جانب سے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں اشیائے خوردونوش کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاجروں نے ریڈیو فری ایشیا کو بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی شاہراہوں پر ناکے لگائے ہوئے فوجی، اکثر ڈرائیوروں اور موٹر سائیکل سواروں سے مبینہ طور پر سامان اور رقوم چھین لیتے ہیں۔

ملک کی سب سے زیادہ آبادی والے شہر ینگون میں بھی معاشی نقصان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ینگون کے شہریوں کا اشیائے خورد و نوش اور دیگر اشیا کی فراہمی کا دار و مدار شہر کے باہر سے آنے والی ترسیل پر ہے۔

اشیائے خود و نوش کی فراہمی میں خلل کی وجہ سے، شہریوں کو اپنے علاقے کی مارکیٹوں میں سبزیوں اور گوشت کی کم فراہمی کا سامنا ہے۔ ینگون کی ایک شہری کا کہنا ہے کہ ان اشیا کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

اسی خاتون نے بتایا کہ ینگون کی سپر مارکیٹیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں، جن میں سٹی مارٹ اور میٹرو شامل ہیں، لیکن چھوٹے سٹور اور دکانیں بند پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گوشت اور سبزیوں کی فراہمی معمول کی مقدار میں دستیاب نہیں ہیں اور ان کی قیمتوں میں دگنا بلکہ تگنا اور اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ینگون میں چاول بیچنے والے ایک تاجر کا کہنا تھا کہ شہر کی ہول سیل منڈیوں میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں بھی دو تہائی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے رسد اور میں کمی ہوئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

منگل کی دوپہر تک ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین شہری گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور مظاہرین کی نامعلوم تعداد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں منڈالے کے چار ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

میانمار کے شہر منڈالے اور ینگون کے نواحی علاقوں اور ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں میں فوجی حکومت کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں احتجاج جاری ہیں۔

ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق مظاہرہ کرنے والے افراد نے منگل کو اپنی ریلیوں میں رنگوں کا استعمال کرتے ہوئے تجارتی مرکز ینگون میں سڑکوں اور فرشوں پر سرخ پینٹ بکھیر دیا جو کہ ان مظاہروں پر فوجی حکومت کی خونی کارروائیوں کی مخالفت کی جانب ایک اشارہ ہے جس میں لگ بھگ 570 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایک آن لائین جریدے دی ایرا وادی کے مطابق، میانمار کے نوجوان فوجی حکومت کی مخالفت اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے احترام میں آئندہ ہفتے تھنگیان واٹر فیسٹیول کی تعطیل کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مختلف علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق فوجی حکام، جنہوں نے پہلے ہی معزول رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ برائے جمہوریت کے دفتر بند کردیے تھے، پارٹی عہدیداروں اور پارلیمانی ارکان کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم، اس سلسلے میں فوجی حکام ایسے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More