افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور 'استنبول کانفرنس' سے اُمیدیں

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 12, 2021

اسلام آباد — 

افغانستان میں قیامِ امن اور بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ترکی کے شہر استنبول میں رواں ماہ افغان کانفرنس متوقع ہے۔ افغان پارلیمنٹ کے اراکین پراُمید ہیں کہ اس کانفرنس سے ملک میں جنگ بندی کی راہ ہموار ہو گی۔

شینکئی کڑوخیل 2005 سے افغان پارلیمنٹ کی رُکن ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال ابھی بھی ٹھیک نہیں ہے اور جنگ نے پورے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ دنوں میں طالبان نے نہ صرف شدت پسندی کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ وہ پُلوں، سڑکوں اور دوسری ضروری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں جس سے روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

البتہ، طالبان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ صرف سرکاری تنصیبات اور افغان فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ میں لاکھوں افراد کی ہلاکت کے علاوہ کئی افراد بے گھر اور بے روزگار بھی ہوئے ہیں جس کے بعد عوامی سطح پر جنگ بندی کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ شینکئی کڑوخیل کا کہنا تھا کہ وہ بھی دیگر افغان عوام کی طرح پُرامید ہیں کہ طالبان استنبول کانفرنس کے موقع پر سیز فائر پر آمادہ ہو جائیں گے۔

اُن کے بقول جنگ جاری رہنے سے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ افغان عوام، حتٰی کہ طالبان کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔

نجیب اللہ آزاد نے مزید بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوام متحدہ نے امریکہ، نیٹو اتحاد، یورپی یونین، علاقائی ممالک، طالبان اور افغان حکومت سے اس کانفرنس کے حوالے سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے زلمے خلیل زاد نے بھی متحرک کردار ادا کیا ہے اور طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔

اُن کے بقول خلیل زاد نے خطے کے دیگر ممالک بشمول پاکستان، بھارت، چین اور روس کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ نجیب اللہ آزاد کا مزید کہنا تھا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی کانفرنس سے پہلے امن کی کئی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

اُن کے بقول پہلے امریکہ نے عبوری حکومت کی تجویز پیش کی جس کے بعد ترکی، قطر اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آئیں اور پھر افغان حکومت بھی اپنی تجاویز پر مشتمل منصوبہ سامنے لائی۔ مجوزہ استنبول کانفرنس کی تاحال حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More