ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل نےحملہ کیا ہے، ایران کا الزام

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 12, 2021

ویب ڈیسک — 

ایران کا جوہری پروگرام گزشتہ ایک عشرے سے سفارتی کاوشوں اور تخریب کار حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے، اور تازہ ترین حملہ اس کے زیر زمین نطنز نیوکلئیر تنصیبات پر ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، اتوار کے روز، نطنز پر ہونے والا حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب امریکہ اور ایران دونوں ہی 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے بالواسطہ بات چیت کر رہے ہیں۔ ایران کے جوہری مقام پر اس سبو تاژ سے، مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی شدت اختیار کر سکتی ہے۔۔

ایران نے زیر زمین ایٹمی تنصیب نطنز پر حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، سعید خطیب ذادے کا کہنا ہے کہ اس حملے سے یورینیم کے افزودہ سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچا ہے اور ایران اسرائیل سے اس کا بدلہ لے گا، گو کہ انہوں نے انتقام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایران کے جوہری امور کے سربراہ علی اکبر صالحئ نے اتوار کے روز اس حملے کو نیوکلئیر دہشت گردی قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے علی اکبر صالحئ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس مذموم حملے کی مذمت کرتا ہے اور بین الاقوامی ادروں اور انٹرنیشنل ایٹامک انرجی کمیشن کو اس جوہری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کرنے والے، اقوامِ متحدہ کے ادارے دی انٹرنیشنل ایٹامک انرجی کمیشن کا اتوار کے روز کہنا تھا کہ وہ صورت حال سے واقف ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ادارے نے مزید کچھ نہیں کہا۔

نطنز پر ماضی میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔ کوئی دس سال پہلے سٹکس نیٹ نامی سائبر حملہ ہوا تھا، جس کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال جولائی میں بھی نطنز میں سینٹری فیوجز بنانے والے پلانٹ پر ایک پر اسرار حملہ ہوا تھا، جسے ایرانیوں نے سبوتاژ قرار دیا تھا۔

امریکہ اور اسرائیل نے تازہ ترین حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اس تازہ حملے سے ایک روز پہلے، ایران کے صدر حسن روحانی نے ٹیلی وژن پر براہ راست نشریات میں نطنز میں یورینیم کی افزودگی کے جدید ترین سینٹری فیوجز کی افتتاحی تقریب دیکھی تھی۔ یہ سینٹری فیوجز جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ایک اہم حصہ ہیں۔ اس موقعہ پر صدر حسن روحانی کا ایک بار پھر کہنا تھا کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر یقین رکھتا ہے۔

صدر روحانی نے ایک بار پر پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام غیر فوجی اور پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب امریکہ اور ایران دونوں ہی سن 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے بالواسطہ بات چیت کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اُس معاہدے کو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کا نام دیا گیا تھا۔

ایران کا موقف ہے کہ امریکہ، ایران پر عائد کردہ تمام پابندیوں کو ہٹائے۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مطالبہ تعطل کا باعث بن سکتا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے اس معاہدے میں واپسی کا عندیہ دیا ہے بشرطیکہ ایران یورینیم کی افزودگی کی حدود کی پوری طرح تعمیل کرے۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی۔

سابق صدر ٹرمپ نے ایران پر غیر قانونی بیلسٹک میزائل پروگرام بنانے اور خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات لگاتے ہوئے معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ایران نے ان پابندیوں کو رد کرتے ہوئے اور اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More