کیا حسینہ معین پی ٹی وی سے ناراض تھیں؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 13, 2021

ویب ڈیسک — جب بھی پاکستانی ڈرامے کی بات ہو گی تو حسینہ معین کا تذکرہ لازمی ہو گا۔ مشہور ڈرامہ نگار نے 70 کی دہائی سے لے کر آخری وقت تک لاتعداد کردار تخلیق کیے جو آج بھی ناظرین کو یاد ہیں۔

معروف مزاح نگار انور مقصود کہتے ہیں کہ حسینہ معین نے اپنی ہیروئنوں سے وہی کردار کروائے جو وہ خود کرنا چاہتی تھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حسینہ معین کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک نشست میں کیا۔

حسینہ معین کی یاد میں اس نشست کا اہتمام انور مقصود کی اہلیہ عمرانہ مقصود نے کیا تھا جو خود بھی حسینہ معین سے کافی قریب تھیں۔

نشست میں اسٹرنگز بینڈ کے بلال مقصود، آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس کی سابق مینجنگ ڈائریکٹر امینہ سید، اداکارہ اور ہدایت کارہ مصباح خالد، براڈ کاسٹ صحافی شاہین صلاح الدین اور مرحومہ کی بھتیجی صدف کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی شرکت کی۔

​اس موقع پر انور مقصود نے بتایا کہ یونی ورسٹی میں وہ حسینہ معین سے دو سال پیچھے ہی سہی لیکن انہیں اندازہ تھا کہ حسینہ معین کے پیچھے سات لڑکے عاشق تھے، جب کہ حسینہ خود پر عاشق تھیں۔

انور مقصود کے بقول، "یونی ورسٹی میں حسینہ معین کو میں بھارتی فلم 'ساقی کا گانا'، 'حسینہ سنبھل سنبھل کے چل' گا کر چھیڑتا تھا تو وہ ناراض ہو جاتی تھیں، لیکن بعد میں جب ہم ٹی وی پر کام کرنے لگے تو وہ مجھے لکھنے کا دوبارہ آغاز کرنے کو کہتی تھیں۔"

سن 1955 میں حسینہ معین کے ساتھ یونی ورسٹی میں پڑھنے والے عنایت شیر کہتے ہیں حسینہ کو زمانۂ طالب علمی سے ہی لکھنے کا شوق تھا اور ان کے خاکے دوستوں میں بے حد مقبول تھے۔

معروف صحافی اور حسینہ معین کی سہیلی خورشید حیدر نے اس موقع پر بتایا کہ حسینہ نہ صرف ایک پیار کرنے والی خاتون تھیں بلکہ زندہ دل اور زندگی کو بھرپور انداز میں گزارنے کی قائل بھی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ٹی وی پروڈیوسر خواجہ نجم الحسن نے حسینہ سے کہا کہ اگر وہ دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی میں 10 منٹ تک پاؤں ڈال کر بیٹھ سکیں تو وہ انہیں مان جائیں گے۔ حسینہ نے اس وقت تو چیلنج قبول کر لیا لیکن پھر ایک مہینے تک لنگڑا لنگڑا کر چلتی رہیں۔

حسینہ معین کے مشہور ڈراموں 'تنہائیاں'، 'دھوپ کنارے'، کہر'، 'پڑوسی' اور 'تنہا' میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والی مرینہ خان کا کہنا تھا کہ حسینہ معین نے اپنے ڈراموں کے ذریعے لڑکیوں کو لڑکوں سے کسی حال میں کم نہیں دکھایا، وہ خواتین کی چیمپئن تھیں اور اسی وجہ سے ان کے ڈرامے آج بھی لوگوں میں مقبول ہیں۔

ان کے بقول،"جب تنہائیں کے لیے میرا آڈیشن ہو رہا تھا تو حسینہ معین کو میری اداکاری بالکل پسند نہیں آرہی تھی، وہ پورے وقت نیچے دیکھ رہی تھیں، لیکن ہدایت کار شہزاد خلیل نے مجھے منتخب کیا اور جب بعد میں میں نے ڈرامے میں کام کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں۔"

مرینہ خان نے کہا کہ اس ڈرامے کے بعد انہوں نے مزید چار ڈراموں میں کام کیا اور اس دوران انہوں نے حسینہ معین سے بہت کچھ سیکھا۔

'اپنے آخری دنوں میں حسینہ معین کیوں پریشان تھیں؟'اس موقع پر انور مقصود نے پاکستان ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'جس پی ٹی وی کو حسینہ نے پہلا اوریجنل ڈرامہ دیا، جس کے لیے اتنے سال کامیابی سے لکھا، اسی پی ٹی وی نے انہیں انہی کا لکھا ڈرامہ 'ان کہی' اسٹیج پر کرنے کی اجازت نہیں دی۔'

انور مقصود نے بتایا کہ 'اپنے آخری دنوں میں حسینہ معین پریشان تھیں کہ انہیں پی ٹی وی 'ان کہی' اسٹیج پر کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔

ان کے بقول، "میرے مشورے پر حسینہ اجازت لینے کے لیے دارالحکومت اسلام آباد بھی گئیں لیکن پی ٹی وی نے انہیں مایوس کیا۔ اسی لیے جب پی ٹی وی نے ان کے انتقال کے بعد مجھ سے میرے تاثرات جاننا چاہے تو میں نے بھی انہیں صاف منع کر دیا اور کہا کہ وہ حسینہ سے خود جا کر کمنٹس لے لیں۔"

محفل میں موجود شرکا نے اپنے اپنے انداز میں حسینہ معین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شاندار الفاظ میں انہیں یاد کیا۔

شرکا کا کہنا تھا کہ حسینہ آج بھی اپنے ڈراموں، کرداروں اور مکالموں کے ذریعے ان کے درمیان موجود ہیں۔ اگر وہ آج دیکھتیں کہ لوگ پیٹ پیچھے بھی ان کی تعریف کر رہے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتیں۔

اس موقع پر حسینہ معین کی بھتیجی صدف نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی پھوپھی کے ساتھ گزارے لمحات کا ذکر کیا۔

SEE ALSO:پاکستانی ڈرامے کو غیر معذرت خواہ ورکنگ وومن کا تصور دینے والی حسینہ معیندوسری جانب حسینہ معین کے ڈرامے 'ان کہی' میں اداکاری کرنے کے بعد ان کے ڈراموں کی ہدایت کاری کرنے والی مصباح خالد کا کہنا تھا کہ گزشہ دو برسوں میں حسینہ کے ساتھ کام کر کے انہیں بے حد مزہ آیا۔

انہوں نے بتایا کہ حسینہ معین ویب سیریز کے ذریعے کم بیک کرنے والی تھیں اور اب ان کے دونوں پراجیکٹس ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوں گے۔

ادھر شاہین صلاح الدین کا کہنا تھا کہ حسینہ معین کے انتقال کی خبر سنتے ہی جہاں سب دکھی ہو گئے تھے، وہیں انہیں یہ بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کی عمر 80 کے قریب تھی۔

ان کے بقول، "حسینہ آپا ایک زندہ دل اور ہمیشہ خوش رہنے والی شخصیت تھیں، مجھ سمیت کئی لوگوں کو یقین نہیں آیا کہ وہ 79 سال کی تھیں کیوں کہ ایک تو وہ کہیں سے بزرگ نہیں لگتی تھیں، دوسرا وہ بچوں کے ساتھ بچہ اور بڑوں کے ساتھ بڑا بن جاتی تھیں۔"

شاہین صلاح الدین نے بتایا کہ 'ایک بار وہ دونوں آرٹس کونسل میں ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے کہ انہیں لگا کہ ہاؤس فل ہونے کی وجہ سے کہیں انہیں اٹھا نہ دیا جائے۔ جب حسینہ معین کو یہ پتا چلا تو انہوں نے جگہ بدلنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ 'بیٹھ گئے تو بیٹھ گئے، چلے گئے تو چلے گئے۔' کسی کو کیا پتا تھا کہ ان کے چلے جانے کے بعد انہیں اس طرح یاد کیا جائے گا۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More