چین: ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک، چند اہم حقائق

ڈی ڈبلیو اردو  |  Apr 14, 2021

چینی شہر وو ہائی کے ہائی نان صنعتی پارک میں قائم فیکٹریاں، محض ایک مثال: صنعتی پیداوار اور ترقی لیکن کس قیمت پر

کوئلے کے کھپت میں چار گنا اضافہ

1990ء اور 2015ء کے درمیانی عرصے میں چین میں کوئلے کی سالانہ کھپت بڑھ کر تقریباﹰ چار گنا ہو گئی اور عوامی جمہوریہ چین اپنے ہاں 60 فیصد بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا کرتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کہہ چکے ہیں کہ چین کی وجہ سے فضا میں زہریلی گیسوں کا اخراج 2030ء تک اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ماحول دشمن کاربن گیسوں کے اخراج میں چین میں ابھی مزید کئی سال تک بے تحاشا اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ صدر شی جن پنگ کے مطابق اس کے بعد کے تین عشروں میں 2060ء تک چین ماحولیاتی حوالے سے 'کاربن نیوٹرل‘ ہو جائے گا۔

'کاربن بریف‘ کے حیران کن اعداد و شمار

2020ء میں دنیا بھر میں کوئلے سے چلنے والے جتنے بھی نئے بجلی گھروں نے کام کرنا شروع کیا، ان میں سے تین چوتھائی چین میں فعال ہوئے تھے۔ زہریلی کاربن گیسوں کے اخراج پر نظر رکھنے والی تنظیم 'کاربن بریف‘ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک پوری دنیا میں کوئلے سے چلنے والے جتنے بھی نئے بجلی گھروں کے قیام کا اعلان کیا جا چکا ہے، ان میں سے بھی 80 فیصد سے زائد چین ہی میں قائم کیے جائیں گے۔

ریستوراں میں کھانا: شکریہ، لیکن صاف ہوا کا بل علیحدہ

کاربن گیسوں کے اخراج کا حجم تین گنا

2019ء میں چین میں ترقی کرتی ہوئی معیشت اور توانائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات کے نتیجے میں جتنی زہریلی گرین ہاؤس گیسیں فضا میں خارج ہوئیں، ان کا سالانہ حجم تقریباﹰ 14 بلین ٹن رہا تھا۔ یہ حجم دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا کی وجہ سے فضا میں شامل ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے حجم کا تقریباﹰ دو گنا بنتا ہے۔ 2000ء اور 2018ء کے دوران چین میں زہریلی کاربن گیسوں کے فضا میں اخراج کی شرح تقریباﹰ تین گنا ہو گئی۔ ان گیسوں کے اخراج کا براہ راست تعلق زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ہے۔ اس وقت پوری دنیا سے فضا میں شامل ہونے والی کاربن گیسوں کے اخراج میں سے تقریباﹰ ایک تہائی کا ذمے دار اکیلا چین ہے۔

نیا پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ

بیجنگ حکومت نے اس سال مارچ میں اپنا جو نیا پانچ سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ پیش کیا، اس میں ہدف رکھا گیا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین 2025ء تک اپنے ہاں توانائی کی پیداوار میں سے صرف 20 فیصد تک توانائی غیر روایتی اور قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرے گا۔ مگر بیجنگ حکومت نے ایسے واضح اہداف کا کوئی تعین نہیں کیا کہ وہ ملک میں ہوا، سورج اور پانی سے بجلی کی پیداوار میں کب تک، کتنا اور کیسے اضافہ کرے گی۔

زمینی درجہ حرارت بلند، کروڑوں انسان شدید گرمی سے متاثر

اس بہت زیادہ آلودگی سے چین خود بھی متاثر ہو رہا ہے: فضائی آلودگی سے انتہائی حد تک متاثر چینی شہر شنگھائی کا ایک منظر

دیگر ممالک سے کاربن گیسوں کے اخراج میں بالواسطہ حصہ

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی کے عالمی ترقیاتی پالیسی کے مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے کئی بیرونی ممالک میں جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس کے تحت بہت سے ایسے بجلی گھر بھی قائم کیے گئے ہیں، جو بجلی کی پیداوار کے لیے روایتی معدنی ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ یہ بجلی گھر بھی سالانہ 314 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے فضا میں اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔ یہ شرح چین سے باہر پوری دنیا میں توانائی کے پیداواری شعبے کے باعث فضا میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا تقریباﹰ 3.5 فیصد بنتی ہے۔

ہائیڈرو پاور کی تیاری میں بھی دنیا بھر میں سب سے آگے

چین پوری دنیا میں پانی سے بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ انٹرنیشنل ہائیڈرو پاور ایسوسی ایشن کے مطابق پوری دنیا میں آبی راستوں پر ڈیم بنا کر جتنی بھی بجلی پیدا کی جاتی ہے، اس کا نصف سے زائد صرف چین پیدا کرتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اتنے زیادہ ڈیم بھی قدرتی ماحول اور آبی حیات کو متاثر کرتے ہیں۔ چین میں توانائی کے قومی انتظامی ادارے کے مطابق گزشتہ برس عوامی جمہوریہ چین نے اپنے ہاں جو نئی ہائیڈرو پاور تنصیبات قائم کیں، ان سے مجموعی طور پر 13.3 گیگا واٹ بجلی حاصل ہوتی ہے۔

م م / ک م (اے ایف پی)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More