مکمل لاک ڈاؤن کے آثار پیدا ہوچکے ہیں،فیصل سلطان

سماء نیوز  |  Apr 22, 2021

وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے ملک بھر میں کہ کرونا کے مثبت کیسز بڑھنے کےعلاوہ اسپتالوں میں گنجائش اور آکسیجن سپلائی کی کمی کا بھی سامنا ہے جس کے پیش نظر امکان ہے کہ ایک مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت پیش آ جائے گی۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل سلطان نے واضح کیا کہ ملک میں ایک سخت لاک ڈاؤن لگاتے وقت مثبت کیسز، اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش اور آکسیجن کی فراہمی کی صورتحال کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور فی الحال ان ان عوامل کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان پیدا ہوچکا ہے کہ سخت  لاک ڈاؤن لگا دیا جائے۔

ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے بھی زیادہ اہم چیز قوانین پر عملدرآمد ہے اور اس کے ساتھ ہی انتظامی معاملات کوسخت کرنے کی بھی ضرورت ہے تاہم ان تمام سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس احتیاطی عمل میں عوام کا تعاون بھی شامل ہو۔

ویکسن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کرونا کی موجودہ لہر کے دوران پہلی اور دوسری لہر کی نسبت طبی عملے میں کیسز کم ہیں جس کی وجہ طبی عملے کی ویکسی نیشن ہے۔

معاون خصوصی صحت کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر بیرون ممالک سے آنے والوں کے ٹیسٹ سے متعلق معاملے پر جمعرات کو غور کیا جائے گا۔

کرونا کی باقی اقسام سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں کرونا وائرس کی بھارتی اور افریقی اقسام کے کیسز نہیں ہیں۔ امتحانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایس اوپیز کے تحت بچوں کے امتحانات لیے جاسکتے ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرام نے کہا کہ قانون بنانا آسان ہے لیکن اس پر علدرآمد بھی ضروری ہے جبکہ یہاں صورتحال یہ ہے کہ لوگ محض پکوڑے خریدنے کی خاطر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ لوگ خواہشات کی قربانی کے بجائے جانوں کی قربانی دے رہے ہیں جو کہ ایک نہایت پریشان کن صورتحال ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر تحقیق کررہے ہیں کہ کرونا کی نئی اقسام کے بعد ویکسین کارآمد ہے بھی کہ نہیں کیوں کہ ویکسین سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کی جارہی ہیں جبکہ ابھی تک دنیا میں سو فیصد کارآمد ویکسن تیار ہی نہیں جاسکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک تو یہ بھی واضح نہیں کہ ویکسین کی مدافعتی قوت کب تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ  پوری دنیا کا ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا ہے لیکن ہمارا حال پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔

انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری خان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس او پیز کے تحت اسکول بھی ایک دن کے وقفے سے کھلنے چاہئیں اس کے علاوہ امتحانات کے لیے ہال بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹرعبدالباری کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 12 سے 13 فیصد تک پہنچ چکی ہے اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اور سخت لاک ڈاؤن کی ضورت ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More