ناسا نے مریخ پر ہیلی کاپٹر کے مشن کی مدت میں توسیع کر دی

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 01, 2021

کسی بھی دوسرے سیارے پر اڑنے والے اس اولین ہیلی کاپٹر کا وزن فقط چار پاؤنڈ ہے، تاہم یہ غیرمعمولی اہمیت کے حامل مشن پر مامور ہے۔ گو کہ مریخ پر اس کو بھیجنے کا مقصد مریخ کے کرہ ہوائی میں پرواز سے متعلق تفصیلات جمع کرنا تھا اور اس لیے اس ہیلی کاپٹر کا مشن فقط تیس روز پر مبنی تھا، تاہم 'انجینیوئٹی‘ نامی اس ہیلی کاپٹر کے مشن کی مدت اب بڑھا دی گئی ہے۔

مریخ پر ناسا کے ہیلی کاپٹر کی اولین پرواز

ناسا نے روور لینڈنگ کی اولین ویڈیو اور آڈیو جاری کر دی

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کا مشن خالصتاﹰ تصور کے ثبوت کی ٹیکنالوجی کا عملی اظہار تھا تاہم اب اسے ایک دوسرا اہم کام سونپا گیا ہے۔ اب یہ ہیلی کاپٹر مریخ میں فضائی نگرانی سمیت دیگر امور انجام دے گا، جس کے ذریعے مریخ پر مستقبل کے مشنز کے لیے معلومات جمع کی جائیں گی۔

امریکی شہر لاس اینجلس میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (JPL) کے مشن کنٹرول سینٹر پر ایک بریفنگ میں ناسا کی جانب سے بتایا گیا کہ شمسی توانائی سے اڑنے والے اس ہیلی کاپٹر نے نئے مشن کے تحت جمعے کے روز اپنی چوتھی اڑان بھری۔ یہ اڑان قریب دو منٹ دورانیے کی تھی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس دوران ہیلی کاپٹر قریب آٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑا۔

اس دوران حاصل کردہ ڈیٹا جمعے کی شب زمین پر قائم کنٹرول سینٹر پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ اس پرواز میں ہیلی کاپٹر مجموعی طور پر سولہ فٹ اونچائی تک گیا اور اس نے آٹھ سو بہتر فٹ کا فاصلہ طے کیا۔ناسا کے مطابق مریخ کی سطح کی نگرانی کے لیے یہ ایک مثالی اونچائی ہے۔

گزشتہ اتوار کو اس ہیلی کاپٹر نے اپنی تیسری پرواز میں زمین پر آزمائشی پروازوں سے تیز اور زیادہ دورانیے کا سفر طے کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:35 ناسا کے مشن مارس کو تلاش ہے مریخ پر زندگی کی

بھیجیے Facebook Twitter Whatsapp Web EMail Facebook Messenger Web reddit

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3gi8N

ناسا کے مشن مارس کو تلاش ہے مریخ پر زندگی کی

ناسا نے مریخ پر اس پرواز کو سن 1903 میں رائٹ برادرز کی شمالی کیلی فورنیا میں کٹی ہاک کے قریب پہلی کنٹرولڈ پرواز کے مماثل قرار دیا ہے۔

ناسا کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کی اڑان کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج مریخ کی نہایت لطیف فضا میں انجن کو توانائی دینا تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ مریخ کا کرہ ہوائی زمین کے مقابلے میں فقط ایک فیصد کثیف ہے۔ اسی لیے مریخ پر ایروڈائنامک لفٹ پیدا کرنا نہایت مشکل عمل ہے۔ مریخ پر بھیجے گئے ہیلی کاپٹر کے پنکھے پر زمین پر اڑنے والے ہیلی کاپٹروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کاٹ دار اور کہیں زیادہ تیز ہیں اور ہیلی کاپٹر کے اپنے حجم کے اعتبار سے ان پروں کی لمبائی بھی زمینی ہیلی کاپٹروں کے پروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More