پی سی بی کا بچےکی پیدائش پرتنخواہ کےساتھ چھٹی دینے کافیصلہ

سماء نیوز  |  May 04, 2021

فوٹو: پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نےقومی کرکٹرز کے یہاں بچے کی پیدائش پر تنخواہ کےساتھ چھٹی دینے کی پالیسی جاری کردی۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کا اطلاق ویمنز اور مینز دونوں کرکٹرز پر ہوگا، جو بالترتیب حمل کےدوران اور بچے کی پیدائش کےوقت اس پالیسی سے مستفید ہوسکیں گے۔

اس موقع پر خواتین کھلاڑی تنخواہ کے ساتھ 12ماہ کی چھٹی اور کنٹریکٹ کی معیاد میں 1سالہ توسیع کی حقدار بھی ہوں گی۔

خواتین کرکٹرز اگر چاہیں تو زچگی کی چھٹی کےشروع ہونے سے لے کربچے کی پیدائش تک وہ اپنے لیے نان پلیئنگ رول اختیار کرسکیں گی۔

زچگی کی چھٹی کے اختتام پر مذکورہ ویمن کرکٹر کو دوبارہ کرکٹ کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔ پوسٹ چائلڈ ری ہیب پروگرام کے سلسلے میں بھی انہیں مناسب طبی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح، اگر کسی خاتون کرکٹر کو کرکٹ کی کسی سرگرمی کے سلسلے میں سفر کرنا پڑتا ہے تو اسے اپنے نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کےلیے من پسند فرد کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس سلسلے میں تمام اخراجات  پی سی بی اور مذکورہ خاتون کرکٹر برابر تقسیم کریں گے۔

مینز کرکٹ ٹیم میں اگر کوئی بچے کاوالد بنتا ہےتو انہیں بھی مکمل تنخواہ کے ساتھ 30 دن تک چھٹی لینے کاحقدار ہوگا تاہم یہ چھٹی اپنے بچے کی پیدائش کے 56 روز کے اندر حاصل کرنی ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ ہر موقع پر اپنے کرکٹرز کا خیال رکھنا پی سی بی کا فرض ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ ہمارے پاس اپنے کھلاڑیوں کے لیے والدین سے متعلق ایک دوستانہ پالیسی موجود ہو تاکہ ہمارے کھلاڑیوں کو زندگی کے اہم مرحلےمیں مکمل معاونت حاصل ہو اور اس دوران وہ اپنے کیریئر کے حوالے سے بے فکر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین کھلاڑیوں کےلیے اس پالیسی کا موجود ہونا اور بھی اہم تھا، خواتین کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ہماری خواتین کرکٹرز نے تو عالمی سطح پر ہمارےلیے بہت سے اعزاز حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جبکہ ہمارے پاس زچگی کی چھٹی کی پالیسی موجود ہے ، امید ہے کہ ماضی کی نسبت خواتین زیادہ تعداد میں اس کھیل کی طرف راغب ہوں گی کیونکہ اس پالیسی کے اجراء سے انہیں اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More