ٹوئٹر نے کنگنا رناوت کا اکاؤنٹ معطل کردیا

ہم نیوز  |  May 04, 2021

مشہور مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے مبینہ طور پر تشدد کو ہوا دینے والے ٹویٹ  کرنے پر بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا اکاؤنٹ معطل کردیا ہے۔

کنگنا نے اپنے ٹوئٹس میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد مغربی بنگال میں ہونے والے مبینہ تشدد پر تبصرہ کیا تھا۔

اپنے ٹوئٹس میں کنگنا رناوت نے وزیر اعظم نریندر مودی سے “2000 کی دہائی کی اپنی قائدانہ انداز صلاحتیں استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کو “قابو” کرنے کا مطالبہ کیا تھا”

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بالی ووڈ اداکارہ کا اشارہ 2000 میں گجرات میں ہونے والے ہنگاموں کی جانب تھا جب مودی کی ریاستی حکومت کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: 

کنگنا کے متنازع ٹوئٹ پر سوشل میڈیا ہی پلیٹ فارم پر شدید ردعمل آیا تھا اور لوگوں نے ان پر تنقید کی تھی۔

ٹوئٹر پر اکاؤنٹ معطل ہونے کے بعد اے این آئی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے رناوت نے ٹویٹر پر نسل پرستی کا الزام لگاتے ہوئے  کہا کہ “ٹویٹر نے میری بات ثابت کردی ہے کہ وہ امریکی ہیں۔ ایک سفید فام شخص پیدائشی طور پر کسی بھورے شخص کو غلام بنانے کا حق رکھتا ہے اور وہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ نے کیا سوچنا ہے، کیا بولنا اور کیا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “میرے پاس بہت سے پلیٹ فارمز ہیں جنہیں میں اپنی آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہوں۔ ان پلیٹ فارمز میں ایک سینما بھی ہے جہاں میں اپنے فن کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتی ہوں۔”

خیال رہے کہ بھارتی اداکارہ کے ٹوئٹر پر تیس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں،، کنگنا متنازع ٹوئٹس کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

حال ہی میں کنگنا نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد مغربی بنگال میں ہونے والے مبینہ تشدد پر تبصرہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں مصنوعی آکسیجن کے پلانٹس نصب کرنے کے معاملے پر اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں خاصی برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا ہر کوئی زیادہ سے زیادہ آکسیجن پلانٹس بنا رہا ہے، آکسیجن سلینڈرز ٹنوں کے حساب سے مل رہے ہیں۔

اداکارہ نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا تھا کہ ہم کس طرح اس ساری آکسیجن کا بدلہ دے سکیں گے جو زبردستی ماحول سے لی جا رہی ہے؟

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More