’آخر وہ دن آ ہی گیا‘، کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ’مستقل طور پر بند‘

اردو نیوز  |  May 04, 2021

بالی ووڈ کوئین کنگنا رناوت جہاں اپنی اداکاری کے لیے مشہور ہیں وہی ان کی شعلہ بیانی اکثر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیر بحث رہتی ہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کنگنا کا نام اس وقت ٹرینڈ کرنے لگا جب ٹوئٹر کی جانب سے اداکارہ کا آفیشل آکاؤنٹ مستقل طور پر بند کردیا گیا۔

اپنی ٹوئٹر پوسٹس میں کنگنا رناوت نے مغربی بنگال میں صدارتی نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جن علاقوں میں بی جے پی جیتی ہے وہاں تشدد نہیں ہوا جبکہ اس کے برعکس بنگال میں تشدد دیکھنے کو ملا۔‘

 سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ’اصولوں کی خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے کنگنا نے ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے حال ہی میں ویسٹ بنگال میں الیکشن جیتنے والی ممتا بینر جی کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے۔

ٹوئٹر ترجمان کا کہنا ہے کہ کنگنا رناوت نے کئی بار ٹوئٹر پلیٹ فارم کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ٹوئٹر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کی وضاحت پہلے بھی کر چکے ہیں کہ ہم ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کریں گے جو کسی بھی قسم کے تشدد یا آف لائن نقصان میں معاون ہو۔‘

انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’ٹوئٹر نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ امریکن ہے اور پیدائشی طور پر سفید فام شخص ہم لوگوں کو غلام بنانا اپنا حق سمجھتا ہے، یہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ کیا سوچنا ،بولنا اور کرنا ہے۔ میرے پاس بہت سے ذرائع ہیں جن سے میں اپنی آواز لوگوں تک پہنچا سکتی ہوں اور اس میں میرا اپن فن سینما شامل ہے۔‘

اداکارہ کنگنا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ڈیلیٹ ہوجانے کے بعد سوشل ٹائم لائنز پر بحث چھڑ گئی اور جہاں کچھ صارفین خوش تو کچھ ٹوئٹر کے اس اقدام پر برہم نظر آئے۔ صارف شریدھار ادا نے لکھا کہ ’ ٹوئٹر نے ویکسین لگوا کر خود کو اس وائرس سے بچا لیا ہے۔‘

گفتگو آگے بڑھی تو ٹوئٹر پر میمز کا طوفان ںظر آنے لگا ، صارف محمد رضوان نے میم شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کنگنا کا اکاؤنٹ معطل ہونے کے بعد۔۔ آخر وہ دن آ ہی گیا۔‘

ٹوئٹر ہینڈل نتاشا نے کنگنا رناوت کے تین ملین فالورز کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کنگنا رناوت اپنے تین ملین فالوؤرز کے ساتھ اداسی اور مایوسی محسوس کرتے ہوئے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More