کورونا وائرس کی مزید خطرناک اقسام کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کا انکشاف

بول نیوز  |  May 05, 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برطانیہ، بھارت ، امریکا ،جنوبی افریقہ اور برازیل میں کورونا وائرس کی نئی اقسام نے تیزی کے ساتھ ابتدائی وباء کی جگہ لیتے ہوئے تباہی مچادی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی 10 نئی اقسام پر باریک بینی سے نظر رکھی جارہی ہے۔

ان اقسام میں سے 2 کو امریکا میں دریافت کیا گیا تھا جبکہ ایک بھارت سے تعلق رکھتی ہے جو وہاں کورونا کی دوسری لہر کی بڑی وجہ سمجھی جارہی ہے۔

عالمی وباء کورونا وائرس کی نئی اقسام روزانہ کی بنیاد پر سامنے آرہی ہیں کیونکہ یہ وائرس مسلسل باشعور ہورہا ہے۔

نئی اقسام میں سے چند ہی عالمی ادارہ صحت کی ویرینٹ آف انٹرسٹ یا ویرینٹ آف کنسرن کی فہرستوں کا حصہ ہیں۔

ان اقسام میں ایسی میوٹیشنز موجود ہیں جو ان کو ممکنہ طور پر زیادہ متعدی، زیادہ جان لیوا اور ویکسین یا علاج کے خلاف زیادہ مزاحمت کی طاقت دیتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے برطانیہ میں دریافت ہونے والی قسم بی 117، جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی قسم بی 1351 اور برازیل میں دریافت ہونے والی قسم پی 1 کو باعث تشویش سمجھی جانے والی اقسام کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت میں دریافت ہونے والی قسم  بی 1617  فی الحال ویرنٹ آف انٹرسٹ کی فہرست میں شامل ہے مگر ادارے کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں مزید تحقیق سے اس قسم کے بارے میں معلوم ہوسکے گا۔

ماہرین کا کہناہےکہ دنیا بھر میں وائرس کی متعدد اقسام گردش کررہی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو مناسب تجزیہ ہونا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ روزانہ کی بنیاد پر نئی اقسام سامنے آرہی ہیں۔

ویرینٹ آف انٹرسٹ کی فہرست میں شامل دیگر اقسام میں بی 1525 (سب سے پہلے برطانیہ اور نائیجریا میں سامنے آئی)، بی 1427/ بی 1429 (امریکا میں سامنے آئی)، پی 2 (برازیل میں سامنے آئی)، پی 3 (جاپان اور فلپائن میں سامنے آئی)، ایس 477 این (امریکا میں دریافت ہوئی) اور بی 1616 (سب سے پہلے فرانس میں سامنے آئی) شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان ممالک کے ماہرین کے ذریعے نئی اقسام کی شناخت اور ان سے پیدا ہونے والی صورتحال کو سمجھا جارہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہےکہ عالمی برادری کو اکٹھے مل کر کام کرنا چاہیے۔ متعدد ممالک میں پریشان کن رجحانات نظر آئے ہیں، کچھ میں کیسز کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، ہسپتالوں اور آئی سی یو میں داخلے کی شرح بڑھی ہے۔

یہ وہ ممالک ہیں جن کو ابھی تک ویکسینز تک رسائی نہیں ملی۔

 

--> Double Click 970 x 90
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More