کورونا وائرس کی نئی اقسام، حقائق کیا ہیں؟

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 08, 2021

کورونا وائرس کی تیسری لہر سابقہ لہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس کی ایک کلیدی وجہ کورونا وائرس کی وہ نئی میوٹیشنز ہیں، جو بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ان نئی میوٹیشیشن سے متعلق کئی اہم سوال ہیں، جو ہم سب کے ذہنوں میں ہیں۔

فیکٹ چیک: لاکھوں امریکی شہریوں نے کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز کیوں نہیں لی؟

پاکستان ميں وینٹیلیٹرز کی تعداد بڑھانے کی کوشش

امریکی طبی ماہر  ڈاکٹر سٹیورٹ رے کے مطابق وائرس کے جین میں تبدیلی اس کی میوٹیشن یا نئے ویریئنٹ کا باعث بنتی ہے۔ 'جیوگرافک فاصلے کی وجہ سے نئے جینٹک ویریئنٹس پیدا ہوتے ہیں۔‘

متعددی بیماریوں سے متعلق امریکی ماہر ڈاکٹر رابرٹ بولینگر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سمیت کسی بھی وائرس میں میوٹیشن یا نئی اقسام کا پیدا ہونا کوئی اچھوتی بات نہیں۔ ڈاکٹر بولینگر کے مطابق، ''تمام آر اے اے وائرس وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں۔  میوٹیشن کی رفتار تاہم کچھ وائرسوں میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر زکام کا وائرس نہایت تیز رفتاری سے تبدیل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر فلو کے خلاف ہر سال نئی ویکسین کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘

کیا کورونا وائرس کی نئی میوٹیشن زیادہ خطرناک ہے؟

کورونا وائرس کی اب تک کئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، تاہم جنوبی افریقی قسم اور برطانوی قسم باعث تشویش ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں اقسام دوسری میوٹیشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ متعدی ہیں۔

اس کے علاوہ کورونا وائرس کی جنوبی افریقی میوٹیشن B.1.351 کے حوالے سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کے حامل افراد کو بھی اس قسم نے کم یا درمیانی حد تک بیمار کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے شکار افراد بھی جنوبی افریقی میوٹیشن سے دوبارہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

کیا ویکسین نئے ویرینٹس کے خلاف موثر ہو گی؟

ماہرین کے مطابق لیبارٹری مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہیں کہ بعض صورتوں میں ویکسینیشن کے باوجود کورونا وائرس کی نئی اسٹیرنز کے خلاف مدافعاتی ردعمل کم زور یا کم کارگر دیکھا گیا ہے۔

متعدی بیماریوں کے انسداد کے امریکی ادارے سی ڈی سی کی ویب سائٹ پر بھی درج ہے، ''ویکسینیشن کے حامل افراد سی ڈی سی کے ضوابط میں تبدیلی پر نگاہ رکھیں اور کورونا وائرس سے تحفظ کی ہدایات یعنی بار بار ہاتھ دھونے، سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال وغیر پر پر بدستور عمل کرتے رہیں، تاکہ انفیکشن کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔‘‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More