سوڑا ڈیم کا منصوبہ علاقے کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہو گا، عثمان بزدار

بول نیوز  |  May 08, 2021

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ سوڑا ڈیم کا منصوبہ علاقے کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا ہے۔

اجلاس میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ہل ٹورنٹس کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے ڈیمز بنانے کے منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈیرہ غازی خان کے علاقے سانگھڑ کے قریب سوڑا میں ڈیم کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

عثمان بزدار نے کہا کہ ڈیم کے منصوبے کو اگلے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا اور ڈیم کی فیزیبلٹی اسٹڈی کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائےگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ہل ٹورنٹس کے پانی کو محفوظ کر کے زرعی اور آبپاشی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ سوڑا میں ڈیم بننے سے تونسہ تک لوگوں کو وافر پانی ملے گا اور زرعی شعبے میں ترقی بھی ہو گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈیم کے منصوبے کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ چیئرمین پی اینڈ ڈی سٹیئرنگ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔

سردار عثمان بزدار نے  منصوبے کے لئے علیحدہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے تاہم ورکنگ گروپ میں متعلقہ محکموں کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سوڑا میں ڈیم کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شروع کرے گی اور ڈیم کی تعمیر سے فصلوں کے لئے بھی پانی دستیاب ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ ہر سال موسم برسات میں بارشوں کا پانی ندی نالوں میں جا کر ضائع ہوتا ہے، اس پانی کو محفوظ کر کے استعمال میں لانا بہت ضروری ہے۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ڈیم کی تعمیر سے علاقے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو سوڑا میں ڈیم بنانے کے تکنیکی امور کے بارے میں بریفنگ دی گئی جبکہ ڈیم بنانے کے حوالے سے فیزیبلٹی اسٹڈی پر ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری آبپاشی، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیکرٹری فنانس، ایم ڈی نیسپاک، جی ایم نیسپاک اور چیف انجینئر نیسپاک نے شرکت کی  جبکہ سول سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم سے سیکرٹری زراعت،سیکرٹری جنگلات، سیکرٹری لائیواسٹاک اورسیکرٹری ہاؤسنگ بھی  ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ جرمنی اور ترکی کے ماہرین نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

--> Double Click 970 x 90
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More