ملک اداروں میں تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا،علی محمد خان

سماء نیوز  |  May 12, 2021

وزیرمملکت برآئے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ ہم اداروں میں تصادم کے تاثر کو مسترد کرتے ہیں اور عدلیہ کے احترام اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ عدالت کی کسی فیصلے پر تبصرہ تو ہوسکتا ہے مگر کسی جج کی ذات پر تنقید نہیں ہوسکتی۔وزیراعظم کے حالیہ بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ لوئر جوڈیشری میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کی طرف وزیراعظم نے نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی بڑا جرم اکیلے نہیں ہوتا بلکہ سب مل جل کر کیا جاتا ہے۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو کوئی ڈائرکشن نہیں دے سکتی وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہے انہوں نے کہا ہر بات کو عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تصادم کا نام رنگ نہیں دینا چاہیے۔رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں بھی خود احتسابی کا نظام موجود ہے اور وہ بھی اس قسم کے عناصر پر نظر رکھتی ہے اور ایسے لوگوں سے سوال بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ججز بحالی تحریک میں ایک شخص جو بغیر کسی لالچ کے کھڑا تھا اس کا نام عمران خان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اداروں میں کچھ مسائل ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس دور سے بہت آگے جا چکے ہیں جب سپریم کورٹ پر حملے ہوتے تھے آج کل کوئی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو عجلت میں جانے کی ضرورت نہیں تھی، ایف آئی اے کا اقدام قانون کے مطابق تھا۔علی محمد خان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس تکنیکی بنیاد پر بند ہوا تھا اگر اس کیس میں نئے ثبوت آئے ہیں تو کیس کو دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More