ہالی وڈ کی کامیاب ترین فلم سیریز 'دی لارڈ آف دی رنگز' پر اینیمے فلم بنانے کا اعلان

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 11, 2021

ویب ڈیسک — 

ہالی وڈ کی کامیاب ترین ایڈونچر فلم سیریز 'دی لارڈ آف دی رنگز' پر اینیمے فیچر فلم بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کی میڈیا کمپنی 'وارنر برادرز' نے جمعرات کو اعلان کیا کہ فلم اسٹوڈیو 'دی لارڈ آف دی رنگز' فلم سیریز پر اینیمے فیچر فلم بنائے گا۔

اس اینیمے فلم کا نام 'دی لارڈ آف دی رنگز: دی وار آف دی روہیرم' ہو گا۔

وارنر برادرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اینیمے فلم میں ایک ایسی افسانوی جنگ کی کہانی دکھائی جائے گی جو 2001 میں ریلیز ہونے والی فلم 'دی لارڈ آف دی رنگز' میں پیش آئی تھی۔

اینیمے فیچر فلم کو 'دی لارڈ آف دی رنگز: دی وار آف دی روہیرم' کی ہدایت فلم ساز کینجی کمی یامہ دیں گے تاہم اینیمے فلم کی ریلیز کی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔

اینیمے کیا ہے؟

'اینیمے' دراصل جاپان سے شروع ہونے والے اینیمیشن اسٹائل کو کہتے ہیں اور یہ جاپان کی تخلیق کردہ اینیمیشن کہلاتی ہے۔

SEE ALSO:ٹی وی سیریز 'گیم آف تھرونز' تھیٹر کی دنیا میں بھی قدم رکھنے کو تیار

اگر جاپانی اینیمے کا مغربی اینیمیشن کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اس میں حرکت پر کم توجہ دی جاتی ہے جب کہ اس میں کیمرہ کے ایفکٹس یعنی زوم، اینگل شاٹس اور دیگر چیزوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کے مقبول آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم ایمیزون کی جانب سے فلم سیریز 'دی لارڈ آف دی رنگز' پر ٹیلی ویژن سیریز بھی بنائی جا رہی ہے۔

ٹیلی ویژن سیریز کی عکس بندی فی الحال نیوزی لینڈ میں کی جا رہی ہے۔

'دی لارڈ آف دی رنگز' فلم سیریز

امریکی میڈیا کے بینر تلے بننے والی فلم سیریز 'دی لارڈ آف دی رنگز' مصنف جے آر آر ٹولکین کے افسانوی ناول پر مبنی ہے۔

اس فلم سیریز کا پہلا حصہ 'دی فیلو شپ آف دی رنگ' 2001 میں ریلیز کیا گیا تھا جب کہ فلم کا دوسرا حصہ 'دی ٹو ٹاورز' 2002 اور تیسرا حصہ 'دی ریٹرن آف دی کنگ' 2003 میں ریلیز کیا گیا تھا۔

فلم سیریز 'دی لارڈ آف دی رنگز' کی کہانی ایک جادوئی انگوٹھی کے گرد گھومتی ہے۔

فلم 'دی لارڈ آف دی رنگز' کی 2001 سے 2003 تک ریلیز ہونے والی تین فلموں نے باکس آفس پر دو اعشاریہ 991 بلین ڈالرز کا بزنس کیا تھا۔

سیزیز کی تینوں فلموں نے کُل ملا کر 17 اکیڈمی ایوارڈز اپنے نام کیے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More