خواتین کومحرم کے بغیر حج کی درخواست دینے کی اجازت

سماء نیوز  |  Jun 14, 2021

سعودی حکومت نے خواتین کو محرم کے بغیر حج کی درخواست دینے کی اجازت دیدی، ساتھ ہی حج کا ارادہ رکھنے والے تمام افراد کیلئے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے رواں سال صرف سعودی شہری اور سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو حج کی اجازت دی گئی ہے، رواں سال حج میں 60 ہزار افراد شریک ہوسکیں گے، جس کیلئے اتوار کی دوپہر ایک بجے سے رجسٹریشن شروع ہوگئی ہے۔

کا کہنا ہے کہ حج کیلئے رجسٹریشن کا عمل 23 جون رات 10 بجے تک جاری رہے گا، پہلے رجسٹریشن کرانے والوں کو ترجیح دینا نظام کا حصہ نہیں ہے۔

رواں سال سعودی حکومت کی جانب سے تین پیکیجز کی منظوری دی گئی ہے، جن کی قیمتیں بالترتیب 16 ہزار 560.5 سعودی ریال (یعنی 4426 ڈالر)، 14 ہزار 381.95 سعودی ریال اور 12 ہزار 113.95 سعودی ریال ہیں، ان پیکیجز میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی شامل کیا جائے گا۔

وزارت حج اور عمرہ کی ویب سائٹ کے مطابق لوگوں کو مقدس مقامات تک بسوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا اور ہر بس میں 20 زائرین ہوں گے، زائرین کو منیٰ میں روزانہ 3 وقت کا کھانا فراہم کیا جائے گا اور عرفات میں 2 وقت یعنی ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دیا جائے گا جبکہ حاجیوں کیلئے رات کا کھانا مزدلفہ میں ہوگا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ حج کیلئے رجسٹریشن کرانے کا مطلب یہ نہیں کہ حتمی حج پرمٹ حاصل ہوگیا ہے، پرمٹ صرف اس وقت جاری کیا جائیگا جب ایپلی کیشن میں صحت کی تمام ضروری شرائط مکمل ہوں گی۔

حج پرمٹ کی درخواست بھیجنے سے قبل ایپلی کیشن بھیجنے والے افراد کو اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انہوں نے گزشتہ 5 برسوں میں حج نہیں کیا، وہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں اور انہیں کرونا نہیں۔

وزارت حج کی ایک ٹویٹ کے مطابق حج ایپلی کیشن کی اسکروٹنی کا عمل 25 جون سے شروع ہوگا، پیکج کیلئے سلیکشن کے 3 گھنٹوں کے اندر رقم کی ادائیگی کرنا ہوگی تاکہ درخواست مسترد نہ کی جائے، ان افراد کو ترجیح دی جائے گی جنہوں نے پہلے حج نہیں کیا ہوگا۔

مزید جانیے : روبوٹ آب زم زم تقسیم کرے گاحج کیلئے درخواست دینے والے افراد کو اس بات کی بھی تصدیق کرنا ہوگی کہ وہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران کسی دائمی بیماری کی وجہ سے اسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔

ہفتہ کو حج پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے مطابق حج کے خواہشمند افراد 18 سے 65 سال کی عمر کے درمیان ہوں اور انہیں کوئی مرض لاحق نہ ہو۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More