مشی گن کے ری پبلیکنز نے ٹرمپ کا الیکشن فراڈ کا الزام مسترد کر دیا

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 24, 2021

ویب ڈیسک — مشی گن میں ری پبلیکن پارٹی کے تحت ہونے والی ایک تفتیش سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے الیکشن میں فراڈ کے دعوؤں کے باوجود اس وسط مغربی ریاست میں 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر ووٹنگ میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کرنے کا سراغ نہیں ملا۔

مشنی گن میں سابق صدر ٹرمپ، جوبائیڈن کے مقابلے میں شکست کھا گئے تھے۔

اس ریاست میں جہاں سینیٹ پر ری پبلیکنز کا کنٹرول ہے، سینیٹ کی کمیٹی نے بدھ کو جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ریاست کے شہری اس بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ ووٹنگ کے نتائج درست تھے۔

مشنی گن میں جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ایک لاکھ 55 ہزار زیادہ ووٹ لیے تھے۔

ٹرمپ نے سن 2016 کے الیکشن میں اس ریاست میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جب کہ 2020 کے انتخاب کا فیصلہ ان کے حق میں نہیں آیا جس کے بعد ان کے کئی ساتھیوں نے یہ کہنا شروع کیا مشی گن میں ووٹوں کی گنتی کے دوران فراڈ کیا گیا تھا کیونکہ اس ریاست کی انٹرم کاؤنٹی ری پبلیکنز کا مضبوط گڑھ تھی۔

Direct link240p | 7.7MB360p | 11.6MB480p | 17.3MB720p | 40.8MB1080p | 49.2MBری پبلیکز کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے تفتیش کار کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں پر زور دیں گے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اس طرح کے جھوٹے دعوے اور نظریات پیش کرنے والوں کی جانب اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور ان کا تنقیدی جائزہ لیں۔

تفتیشی پینل نے ریاست کے اٹارنی جنرل پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں تحقیقات کریں جنہوں نے انٹرم کاؤنٹی میں ووٹوں کی گنتی کے متعلق جھوٹے الزامات لگائے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More