گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 'موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں'

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 08, 2021

کراچی — 

گلگت بلتستان کی حکومت نے اس ماہ کے آغاز میں ہونے والی شدید بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور مختلف مقامات پر قراقرم ہائی وے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس دو روزہ پابندی کا مقصد سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید بارشوں، دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے بابوسر اور قراقرم ہائی وے سے گلگت بلتستان جانے والے کئی راستوں پر رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق حالیہ شدید بارشوں سے غذر، نگر، دیامر، گھانچھے اور استور کے اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں، زمینوں، پلوں اور واٹر سپلائی چینلز ، گھروں ، دکانوں اور مارکیٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ جب کہ شدید بارشوں سے فصلوں اور پھل دار درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسی طرح لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ قراقرم تتہ پانی کے مقام پر اور بابوسر روڈ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ گلگت شندور روڈ ضلع غذر کے مقام پر سیلاب کی زد میں آگیاہے۔ ضلع نگر میں ویلی روڈز اور دو پل سیلابی پانی میں بہہ گئے۔

دوسری جانب ضلع گھانچھے میں چھوربٹ کے مقام پر ایک پل اور آبادی اور کئی نالے بھی سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے گلگت سکردو روڈ بھی کٹاؤ کا شکار ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک یہ نقصانات 2010 میں شدید سیلاب سے ہونے والے تباہی سے کم رہے ہیں۔

ولی خان نے کہا کہ ہر سال بارشوں سے قبل پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور اس پرعمل بھی کیا جاتا ہے۔ اس دوران مشینری کی مختلف علاقوں میں موجودگی کو یقینی بنانے کے ساتھ غذائی اشیا اور غیر غذائی اشیا کا ذخیرہ بھی کسی حد تک جمع کیا جاتا ہے۔ لیکن اس بار انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات سے پرائیویٹ مشینری کی خدمات بھی حاصل کرنا پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئر تیزی سے پگھلتے ہیں جس سے معمول سے زیادہ پانی آتا ہے اور پھر نتیجتاً تباہی ہوتی ہے۔

'گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں'

دنیا میں قطب جنوبی اور شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع ہیں۔

عالمی درجۂ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ خطہ پچھلے چند برسوں سے شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔

اِن تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز جھیلوں کے پگھلنے سے آنے والے سیلاب(گلُاف)، تبدیل ہوتے ہوئے موسمی حالات، موسم کی شدت میں اضافے سمیت دیگر خطرات درپیش ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے ’یو این ڈی پی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے ملک کے شمالی علاقوں میں دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں واقع گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گلیشیئرز پگھلنے سے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں اس وقت تین ہزار 44 گلیشئیل جھیلیں بن چکی ہیں اور ان کی تعداد میں پچھلے چند برسوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جھیلوں سے خطرات

ان میں سے فی الحال حکام نے 33 ایسی جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جن کے پھٹنے سے سیلاب کی صورت میں زیادہ خطرناک صورتِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں لاکھوں کیوبک میٹر پانی اچانک نکلنے سے لوگوں کی جان، املاک، مال مویشی خطرے میں ہیں۔

یو این ڈی پی کے مطابق ان علاقوں میں آباد 71 لاکھ سے زائد افراد اس خطرے کے فوری زد میں ہیں او ر ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی لوگ وہ ہیں جو خطِ غربت سے نیچےکی زندگی گزار رہے ہیں۔

قراقرم یونی ورسٹی کے شعبہ ماحولیات سے وابستہ گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور رسک اسیسمنٹ پر تحقیق کرنے والے کرامت علی کا کہنا ہے کہ کلاوڈ برسٹ (یعنی کم وقت میں شدید بارش جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہوجائے)کی وجہ سے پہاڑوں پر غیر معمولی موسلادھار بارشیں ہوتی ہیں۔ لیکن نیچے دیہات میں اس کی شدت کا اندازہ نہیں ہوتا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب یہی پانی تیزی سے نیچے آتاہے تو تباہی آتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں لوگوں کی جان و مال کا نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اور انفرا اسٹرکچر کا نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کا موازنہ پنجاب یا سندھ کے میدانی علاقوں میں سیلاب سے کیا جائے تو وہاں انتظامیہ کے پاس پیشگی مطلع کرنے کا وقت بھی ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس بھی وقت ہوتا ہے کہ وہ پانی آنے سے قبل محفوط مقامات پر پہنچ جائیں۔ لیکن یہاں یہ مہلت نہیں ملتی جس کی وجہ سے تباہی زیادہ ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے شواہد صاف نظر آرہے ہیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیٹلائٹ امیجز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان گلیشیئرز میں موجود برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ سیٹلائٹ تصویریں 1973 کے بعدسے ملنا شروع ہوئی ہیں اور ان کو دیکھ کر با آسانی اندزہ لگایا جا سکتا ہے کہ درجۂ حرارت زیادہ ہونے سے یہاں جھیلوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول جوں جوں یہ جھیلیں بڑھتی جائیں گی، ظاہر سی بات ہے کہ وہ اپنے موجودہ رقبے کو توڑتے ہوئے بہہ نکلیں گی اور اسی کو گُلاف(یعنی گلیشئیل لیک آوٹ برسٹفیلڈ) کہا جاتا ہے۔ اس لیے گلیشئیرز اور گلیشئیل جھیلوں کے آس پاس کی آبادیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جھیل اب تک تین بار آوٹ برسٹ ہو چکی ہے جس سے قریبی دیہات میں بڑی تباہی دیکھی گئی۔ اس ساری صورت حال کو دیکھ کرہم یہ کہہ سکتے ہیں دنیا جس موسمیاتی تبدیلی کی باتیں کرتی ہے ان کے شواہد یہاں صاف نظر آ رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے تحت ایک منصوبہ جاری ہے جس کے تحت اب تک 80 لاکھ ڈالر کے قریب رقم خرچ ہوچکی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ان خطرات کو کم کرنااور تباہی کی صورت میں فوری ردِعمل دینا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے گُلاف سے پیدا ہونے والی تباہی کے خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ انجینئرنگ اسٹرکچر کے ذریعے جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات سے نقصانات میں کمی، لوگوں کو خطرے سے پیشگی آگاہی، موسم کی مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانے، غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے گھریلو باغ بانی کے فروغ اور جنگلات کی دوبارہ آباد کاری جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس قدر تیزی سے درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسمی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے لیے اجتماعی عالمی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More