ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

سماء نیوز  |  Sep 14, 2021

انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 84 پیسے اضافے سے 168.94 روپے ہوگئی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

اس سے قبل 26 اگست 2020ء کو ڈالر کی قیمت 168.43 روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 80 پیسے کے اضافے سے 169.80 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ڈالر کی قدر کیوں بڑھ رہی ہے؟

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جولائی میں پاکستان نے 5.5 ارب ڈالر کی امپورٹ کی تھی، جو اگست میں اضافے سے 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی یعنی ایک ماہ میں درآمدات کا بوجھ ایک ارب ڈالر بڑھ گیا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے درآمد کنندگان ہیں جن کے پاس پاک افغان دہری شہریت ہے جبکہ کئی لوگوں کے دونوں ممالک میں کاروبار ہیں، ایسے درآمد کنندگان پاکستان سے افغانستان کیلئے بھی اشیاء درآمد کررہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان کو بیرونی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں، اگلے 4 ماہ میں مجموعی طور پر ملک میں 44 ارب ڈالر آنے ہیں اور اس کے مقابلے میں 53 ارب ڈالر تجارتی خسارہ، قرض اور سود کی مد میں دینے ہیں یعنی 9 ارب ڈالر کا فرق ہے جو زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کار رضا جعفری کے مطابق سی پیک کے منصوبوں کیلئے چائنا سے لئے گئے قرض کی ادائیگی کی باتیں مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں جو کہ تقریباً 3 ارب ڈالر ہیں، اس کے علاوہ سرمایہ کاروں سے لی گئی رقم کی مد میں منافع کی ادائیگی بھی ڈالر میں کرنی ہے، جس سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

معاشی ماہر عبدالعظیم کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کی بڑی وجہ درآمدات کا بڑھتا بوجھ ہے، خاص طور پر پاکستان کی درآمدات میں تیل کا بڑا حصہ ہے، اس لئے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر مقامی کرنسی مارکیٹ میں بھی نظر آنے لگتا ہے۔

عبدالعظیم کے مطابق چین کو ادائیگی کرنے کی خبر کا بھی مارکیٹ میں اثر دیکھنے میں آیا لیکن چین کو بات چیت کے ذریعے مؤخر ادائیگی کیلئے قائل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر 170 روپے کی سطح پر جاسکتا ہے لیکن اس سے اوپر جانے پر توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک مداخلت کرے گا اس لئے ڈالر کی قدر بہت زیادہ بڑھنے کا امکان نہیں ہے۔

ملکی تجارتی خسارہ کم ہونے پر ڈالر کی قدر میں کمی آئی تھی اور تجارتی خسارہ بڑھنے پر ڈالر کی قدر دوبارہ بڑھنے لگی ہے، گزشتہ 4 ماہ سے تجارتی خسارہ بڑھنے کے ساتھ روپے کی قدر بھی گررہی ہے اور 4 ماہ میں ڈالر کی قدر میں 16 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے، تقریباً 4 ماہ قبل 7 مئی کو ڈالر 152.40 روپے کی سطح پر تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More