یو ایس اوپن‘ میڈیڈیف نے جوکووچ کے خواب چکنا چور کر دیئے

سماء نیوز  |  Sep 14, 2021

 انسان بسا اوقات جو کچھ کہتا ہے اس کی جھلک اس کی کارکردگی اور کاموں میں دکھائی نہیں دیتی ایسا ہی کچھ دنیائے ٹینس کے نمبر ایک کھلاڑی جو کووچ کے ساتھ امریکی شہر نیویارک میں  یو ایس اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے مینز سنگلز فائنل میں ہوا۔

 ٹینس کے عالمی نمبر ایک اور ٹاپ سیڈڈ نواک جوکووچ کیلئے یو ایس اوپن کا فائنل انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس کا اظہار انہوں نے الیگزینڈر زیوریف کے خلاف سیمی فائنل میں کامیابی کے بعد یہ بات کہہ کر کیا تھا کہ میں اس میچ کو اپنے کیریئر کا آخری میچ سمجھ کر کھیلوں گا اور اس میں فتح کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دوں گا۔

لیکن جب وہ عالمی نمبر 2 ڈیٹیل میڈیڈیف  کے خلاف  آرتھر ایش اسٹیڈیم کی کورٹ میں اترے تو پورے میچ کے دوران کہیں بھی ان کے روایتی کھیل کی جھلک دکھائی نہیں دی اور  پورے میچ میں آغاز سے اختتام تک روسی کھلاڑی کا پلہ بھاری رہا۔

روس کے ڈینیل میڈیڈیف نے یوایس اوپن کے فائنل میں سربیا کے ٹینس لیجنڈ نواک جوکووچ کو اسٹریٹ سیٹ میں 6-4,6-4,6-4 سے شکست دے کر ناصرف انہیں سال رواں میں مسلسل چوتھا گرینڈ سلام جیتنے سے روک دیا بلکہ اس کامیابی کے ساتھ ان کے کئی خواب بھی چکنا چور کر دیئے۔

ڈینیل میڈیڈیف نے ناصرف اپنے پروفیشنل کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل جیتا اور سربین اسٹار سے سال رواں کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن کے فائنل میں شکست کا حساب بھی بے باق کر دیا۔

ڈینیل  میڈیڈیف 21 سال بعد  یو ایس اوپن ٹائٹل جیتنے والے پہلے روسی کھلاڑی ہیں ۔ روس سے تعلق رکھنے والے سابق عالمی نمبر ایک مراٹ سافن نے 20  ویں صدی کا آخری گرینڈ سلام ٹائٹل یو ایس اوپن 2000  امریکی لیجنڈ پیٹ سمپراس کو تین سیٹ میں 6-4,6-3,6-3 سے شکست دے کر جیتا تھا۔

یو ایس اوپن فائنل میچ کے دوران ڈینیل میڈیڈیف کی برق رفتار سروس نواک جوکووچ کیلئے بھاری ثابت ہوئی ۔ روسی کھلاڑی کی سروس سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حریف پر بمباری کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیشتر پوائنٹس اپنی پہلی سروس پر حاصل کیے اور نواک جوکووچ ان کی سروس کو صرف دو بار بریک کر سکے جبکہ میڈیڈیف نے  سربین کھلاڑی کی سروس کو متعدد بار بریک کیا۔  ڈینیل میڈیڈیف کے بیک ہینڈ اور ڈراپس شاٹس کا بھرپور جواب دینا جوکووچ کیلئے خاصا مشکل لگ رہا تھا۔

دوسرے سیٹ میں جوکووچ کئی بار پوائنٹس ضائع ہونے پر چینخے اور چوتھی گیم میں اپنی سروس پر مسلسل پوائنٹس گنوانے پر ریکٹ زمین پر دے مارا جس پر ریفری نے انہیں وارننگ دی ۔ اس سیٹ میں وہ شدید فرسٹریشن کا شکار نظر آئے جس پر تماشائیوں نے کھڑے ہو کر ان کیلئے تالیاں بجائیں اور حوصلہ افزائی کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور چینج اوور کے دوران انہوں نے اپنا سر تولیے میں چھا لیا تھا۔

تیسرے سیٹ میں میڈیڈیف اپنے حریف پر مکمل طور پر حاوی رہے اور انہوں نے تیزی کے ساتھ   اسکور 2-5 پر پہنچا دیا تاہم اس مرحلے پر جوکووچ نے دو گیم جیت کر اسکور 4-5 کیا ۔ اس دوران میڈیڈیف نے دو میچ پوائنٹس ضائع کیے ۔ جوکووچ کی یہ آخری کوشش بجھتے دیے کی تیز ہوتی لو جیسی تھی کیونکہ اس خسارے کی ریکوری ان کیلئے ممکن نہیں تھی دوسری جانب  فتح کے جذبے سے سرشار میڈیڈیف کے اعتماد میں مزید اضافہ ہو گیا تھا اور وہ زیادہ جارحانہ انداز میں کھیل رہے تھے۔ آخری گیم میں انہوں نے تیزی سے پوائنٹس حاصل کیے اور فاتحانہ شاٹ کھیل کر اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام جیت لیا۔

 روسی کھلاڑی نے یوایس اوپن فائنل سے قبل اپنے چھ میچوں میں صرف ایک سیٹ ڈچ کھلاڑی زینچلوف کے خلاف ہارا تھا جبکہ نواک جوکووچ کو  سیمی فائنل تک ان کے حریفوں نے  چھ سیٹس میں شکست دی تھی۔ نواک جوکووچ نے فائنل سے قبل تک ٹینس کورٹ میں اپنے حریفوں کے خلاف   17 گھنٹے 26 منٹ اور ڈینیل میڈیڈیف نے 11 گھنٹے 51 منٹ گزارے تھے۔

تین ماہ قبل ومبلڈن کے فائنل میں نواک چوکووچ  نے میٹیو بریٹینی کے خلاف دو سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد کم بیک کرتے ہوئے  ٹائٹل جیتا تھا جبکہ یو ایس اوپن میں بھی وہ سیمی فائنل تک کھیلے جانے والے چار میچوں میں پہلے سیٹ میں شکست سے دو چارہوئے تھے اور پھر انہوں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کی تھیں۔

سیمی فائنل میں بھی انہوں نے اولمپک چیمپئن الیگزرینڈر زیوریف کے خلاف پانچ سیٹ کے جاں گسل مقابلے کے بعد  کامیابی  حاصل کی تھی لیکن فائنل میں میڈیڈیف کے انتہائی جارحانہ کھیل  نے جوکووچ کو مکمل طور پر بے بس کر دیا اور سال رواں میں چار گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں ان کی 27 فتحات کا تسلسل اسی طرح روک دیا جس طرح نواک جوکووچ نے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں روسی کھلاڑی ڈینیل میڈیڈیف کو  ہرا کر ان کی 20 میچوں میں فتوحات کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔

 ڈینیل میڈیڈیف کا گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے پر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیونکہ یہ ان کی شادی کی تیسری سالگرہ کا دن بھی تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر میچ میں شکست سے دو چار ہو جاتا تو میچ کے بعد میرے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ میں بیوی کیلئے کسی گفٹ کی شاپنگ کرتا اب ہمارے لیے اس سے بڑا کوئی اور گفٹ نہیں ہو سکتا۔

میچ دیکھنے کیلئے روسی کھلاڑی کے والدین اور فیملی کے دیگر افراد بھی موجود تھے جبکہ جوکووچ کی اہلیہ بھی شوہر کی مسلسل حوصلہ افزائی کر رہی تھی ۔

ماریہ شراپووا 2014 میں گرینڈ سلام ٹائنل جیتنے والی آخری روسی کھلاڑی تھیں وہ بھی مینز سنگلز فانئل دیکھنے کیلئے آرتھر ایش اسٹیڈیم میں موجود تھیں اور اپنے ہم وطن کھلاڑی کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔

 یو ایس اوپن ٹورنامنٹ میں ڈینیل میڈیڈیف صرف ایک سیٹ ڈراپ کر کے ٹائٹل جیتنے والے تیسرے کھلاڑی ہیں  ان سے قبل 1987 میں چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل اور 2010  میں ہسپانوی کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال نے گرینڈ سلام ٹورنامنٹ میں صرف ایک سیٹ ڈراپ کرتے ہوئے ٹرافیاں جیتی تھیں۔

ڈینیل میڈیڈیف 11  فروری 1996 کو ماسکومیں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سرگئی میڈیڈیف کمپیوٹر انجینیئر ہیں سرگئی اپنی اہلیہ اولگا کے ساتھ مل کر سول انجینیئرنگ کا بزنس کرتے ہیں ۔ ڈینیل  میڈیڈیف خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ تعلیم کے ساتھ ٹینس اور دیگر کھیلوں میں حصہ لیتے تھے انہیں پہلی بار 2015 میں کریملن کپ میں اے ٹی پی کے مین ڈرا میں ڈبلز ایونٹ میں شامل کیے گئے تھے  جس میں ان کے پارٹنر اسلان کراٹسیف تھے انہوں نے اپنا پہلا اے ٹی پی سنگز ڈیبیو  2016 میں ریکو اوپن میں کیا تھا۔

 یو ایس اوپن  2021 سے قبل  میڈیڈیف نے اپنے پروفیشنل کیریئر میں 12 اے ٹی پی ٹائٹلز جیتے تھے انہوں نے اپنا پہلا اے ٹی پی  ٹائٹل سڈنی میں جیتا تھا۔  گزشتہ سال ان کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی  جب انہوں نے سنسناٹی ‘ پیرس ‘ ٹورنٹو ‘شنگھائی میں اے ٹی پی ماسٹرز 10000  ٹورنامنٹس اور اس کے بعد لندن میں اے ٹی پی ماسٹرز فائنل جیتا تھا ۔

اے ٹی پی ماسٹرز چیمپئن شپ فائنل میں میڈیڈیف  نے تین ٹاپ کھلاڑیوں نواک جوکووچ ‘رافیل نڈال اور ڈومینک تھیم کو شکست سے دو چار کیا تھا  اور وہ چیمپئن شپ فائنل میں  تین ٹاپ کھلاڑیوں کو ہرانے والے دنیا کے پہلے اور واحد کھلاڑی ہیں۔

مراٹ سافن مینز گرینڈ سلام ٹاثٹل جیتنے والے آخری روسی کھلاڑی تھے جنہوں نے 2005 کے آسٹریلین اوپن سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے  لیٹن ہیوٹ کو چار سیٹ کے مقابلے میں زیر کیا تھا ۔ مجموعی طور پر آخری گرینڈ سلام جیتنے والی روسی کھلاڑی ماریہ شراپووا تھیں جنہوں نے 2014 کے فرنچ اوپن ویمنز سنگلز  فائنل میں رومانیہ کی سیمونا ہالیپ کو ہرایا تھا۔

 کوئی بھی مرد کھلاڑی 1969 کے بعد ایک سال (کیلنڈر ائر ) میں  چاروں ٹینس گرینڈ سلام ٹورنامنٹ  جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ 1969 میں آسٹریلیا کے راڈ لیور کیلنڈر ائر میں چاروں گرینڈ سلام ٹائٹل جیتے تھے ۔ نواک جوکووچ کے پاس  52  سال  بعد یہ کارنامہ انجام دینے کا سنہری موقع تھا لیکن روسی اسٹار میڈیڈیف ان کی راہ میں حائل ہو گئے اور انہیں اس اعزاز سے محروم کر دیا۔

اب شاید نواک جوکووچ کو زندگی میں دوبارہ ایسا موقع میسر نہ آئے کیونکہ اب ان کی عمر ڈھل رہی ہے ۔ ٹینس کورٹ میں نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی ایک نئی کھیپ ابھر کر سامنے آئی ہے جو  گزشتہ 18 برسوں سے ٹینس کی دنیا پر حکمرانی کرنے والے بگ تھری  راجر فیڈرر ‘ رافیل نڈال اور  نواک جوکووچ کی جگہ لے رہی ہے۔

ان  تینوں کھلاڑی اس عرصے کے دوران 72 میں سے 60 گرینڈ سلام اعزازات جیتے ہیں ۔ تینوں نے سپر اسٹارز نے 20,20 ٹائٹل اپنے نام کیے ہیں یو ایس اوپن فائنل میں ناکامی سے نواک جوکووچ سب سے زیادہ گرینڈ سلام جیتنے والےکھلاڑی نہیں بن پائے۔

 یوایس اوپن فائنل میں شکست سے نواک جوکووچ  کیلنڈر سلام جیتنے کی کوشش میں ناکام ہونے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ۔ ان سے قبل  1933 مں جیک کرافورڈ  اور 1956 میں لیو ہواڈ  نے ابتدائی تین تین گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتے تھے لیکن دونوں کو یو ایس اوپن کے فائنل میں شکست اٹھانا پڑی تھی۔ آسٹریلیا کے جیک کرافورڈ کو یو ایس اوپن فائنل میں برطانیہ کے فریڈ پیری نے ہرایا تھا ۔ آسٹریلیا ہی  کے لیو ہواڈ کو یو ایس اوپن فائنل میں ہم وطن کین روزویل نے زیر کیا تھا۔

نواک جوکووچ کو چھٹی مرتبہ یو ایس اوپن کے فائنل میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور وہ صرف تین مرتبہ یو ایس اوپن ٹائٹل کو اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں ۔ سرب کھلاڑی نے پہلی بار یو ایس اوپن میں 2005 میں شرکت کی تھی اور وہ تیسرے رائونڈ میں ہار گئے تھے ۔ جوکووچ 2007  میں پہلی مرتبہ یو ایس اوپن فائنل میں پہنچے تھے اور سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر نے انہیں شکست دی تھی۔

 ڈینیل میڈیڈیف کو 2019 کے یوایس اوپن فانئل میں رافیل نڈال نے ہرایا تھا جبکہ 2021  کے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں نواک جوکووچ نے انہیں زیر کیا تھا ۔ گزشتہ سال وہ یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں  ڈومینک تھیم سے ہار گئے تھے۔

جبکہ نواک جوکووچ کو ڈرامائی انداز میں یو ایس اوپن سے ڈس کوالیفائی کر دیا گیا تھا جب انہوں نے  دیکھے  بغیر ریکٹ سے پیچھے گیند پھینکی تھی جو خاتون ریفری کی گردن پر جا لگی تھی اور وہ درد سے کراہتے ہوئے زمین پر گر گئی تھی جوکووچ نے اس غلطی پر فوری معذرت کی تھی لیکن انہیں ڈس کوالیفائی کرتے ہوئے ان کے حریف سرینو بسٹا کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال یو ایس اوپن کا ٹائٹل ڈومینک تھیم نے فائنل میں پانچ سیٹ کے مقابلے میں زیوریف کو شکست دے کر جیتا تھا جو ان کا پہلا گرینڈ سلام اعزاز تھااس سال وہ انجری کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔

آرتھر ایش اسٹیڈیم میں فائنل میچ میں موجود راڈ لیور نے روسی کھلاڑی میڈیڈیف کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ٹینس کے ایک بڑے چیمپئن کو  ٹائٹل جیتنے سے روک دیا۔ آپ کا کھیل انتہائی شاندار تھا ۔ پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل سپیشل ہوتا ہے جس کے جیتنے کی خوشی بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہوتے۔

مستقبل میں مزید ایسی کئی ٹرافیاں آپ کی منتظرہوں گی۔  فلیشنگ میڈوز پر آپ کی اٹیکنگ کارکردگی مدتوں یاد رہے گی ۔ راڈ لیور نے 1962 اور 1969 میں دو مرتبہ کیلنڈر ائر میں چاروں گرینڈ سلام جیتے تھے۔

میڈیڈیف کے یو ایس اوپن جیتنے کے ساتھ  روسی کھلاڑیوں کے مینز اور ویمنز گرینڈ سلام سنگلز ٹائٹلز کی مجموعی تعداد13   ہو گئی ۔ یفگینی کیفلنیکوف کو گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والے پہلے روسی کھلاڑی ہونے کا

اعزاز حاصل ہے جنہوں نے 1996 میں فرنچ اوپن فائنل میں جرمنی کے مائیکل شٹخ کو تین سیٹ کے مقابلے میں شکست دی تھی ۔

کیفلنیکوف نے 1999 میں آسٹریلین اوپن بھی جیتا تھا۔ مراٹ سافن نے 2000 میں یو ایس اوپن اور 2005 میں آسٹریلین اوپن اپنے نام کیا تھا۔  انتستاسیا مسکینا نے 2004 میں فرنچ اوپن ‘ سویتلانا کوزنتسیوا نے 2004 میں یو ایس اوپن اور 2009 میں فرنچ اوپن ٹائٹلز جیتے تھے۔

ماریہ شراپووا سب سے زیادہ پانچ گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والی روسی کھلاڑی ہیں جنہوں نے چاروں گرینڈ سلام اعزازات جیتے ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا گرینڈ سلام 2004 میں ومبلڈن میں جیتا تھا۔ روسی ساحرہ ماریہ شراپووا 2006 میں یو ایس اوپن اور 2008 میں آسٹریلین اوپن کے اعزازات اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں وہ  2012 اور 2014  میں فرنچ اوپن  چیمپئن بنی تھیں۔

فائنل میں کامیابی کے بعد ڈینیل میڈیڈیف نے کہا کہ  میں سب سے پہلے تو جوکووچ سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے انہیں ان کی زندگی کے اہم ترین اور ریکارڈ ساز میچ میں زیر کیا لیکن میں اپنی پہلا گرینڈ سلام جیتنے کی خوشی کو بیان نہیں کر سکتا۔

میں  دو  گرینڈ سلام فائنلز میں شکست کے تجربے کے ساتھ اس بار کورٹ میں اترا تھا۔ میڈیڈیف نے  اوگر الیسمی کے خلاف سیمی فائنل میچ میں فتح کے بعد  کہا تھا کہ اس بار فائنل میں جوکووچ میری حکمت عملی  پہلے سے مختلف ہو گی کیونکہ میں آسٹریلین اوپن  فائنل میں جوکووچ کے کھیل کا بغور جائزہ لیا ہے اور اب میں ویسی غلطیاں نہیں دہرائوں گا۔

میڈیڈیف نے اس فائنل میں واقعی ان غلطیوں کا اعادہ نہیں کیا اور سربین حریف کو پہلی گیم سے ہی دبائو میں رکھا جس کا نتیجہ فتح کی صورت میں ان کے حق میں رہا میڈیڈیف نے کہا  کہ جوکووچ ایک چیمپئن اور عظیم کھلاڑی ہے۔

 سربیا کے 34 سالہ عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ نے اعتراف کیا کہ اس خاص دن میری کارکردگی واقعی  معیار کے مطابق نہیں تھی میں اپنی بھرپور انرجی کے ساتھ کھیل نہیں پایا۔ روسی حریف نے غیر معمولی کھیل پیش کیا ۔ میں انہیں پہلا گرینڈ سلام جیتنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

وہ واقعی آج اپنی کارکردگی کی وجہ سے اس فتح کے بجا مستحق تھے جس نے مجھے بیک وفت دو ریکارڈز سے محروم کر دیا ۔ نیویارک کے عوام نے جس طرح مجھے مشکل حالات میں سپورٹ کیا میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں ان کی توقعات کے مطابق اپنے روایتی کھیل  کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا۔

مجھ سے کئی غیر اداردی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ میڈیڈیف نے پر اعتماد کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی بار میری سروس بریک کی ۔ اس کی طوفانی سروس کارگر ہیتھیار ثابت ہوئی ۔ وہ مستقبل کا چیمپئن ہے اور ایسی کئی ٹرافیاں اس کی منتظر ہیں۔

 نواک جوکووچ  نے کہا کہ ٹینس کی دنیا میں کھلاڑیوں کی نئی نسل انتہائی باصلاحیت ہے  جو شائقین کو اپنے کھیل سے اسی طرح مخظوظ کرے گی اور ان کی مسابقت اسی انداز میں جاری رہے گی جیسے راجر فیڈرر ‘ نڈال اور میرے درمیان ہے۔

جوکووچ کو اب 21 واں گرینڈ سلام جیتنے کیلئے اگلے سال کے اولین گرینڈ سلام ٹورنامنٹ آسٹریلین اوپن کا انتظار کرنا پڑے گا جب  رافیل نڈال ‘ ڈومینک تھیم ‘ سٹان  واورنکا اور راجر فیڈرر‘ مارٹن ڈل پوٹرو سمیت کئی انجرڈ کھلاڑی جو یو ایس اوپن میں موجود نہیں تھے فٹ ہو کر واپس کورٹ میں آجائیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More