افغانستان کی صورتحال پریشان کن، دنیا مدد کرے، وزیراعظم

سماء نیوز  |  Sep 15, 2021

فوٹو: پی ٹی آئی ٹویٹر

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں، ہمیں طالبان کی مدد کرنی چاہئے، عالمی برادری نے مدد نہ کی تو انتشار کا خدشہ ہے، افغان خواتین طاقتور ہیں وہ اپنے حقوق خود حاصل کرلیں گی۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کی معروف اینکر بیکی اینڈرسن نے وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو کیا، جو آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے نشر کیا گیا۔

امریکی ٹی وی میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی تازہ صورتحال کو پریشان کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، افغانستان میں کسی بھی مسئلے کا حل فوجی نہیں، افغان خواتین طاقتور ہیں، وہ اپنے حقوق خود حاصل کرلیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اس وقت پورے افغانستان پر حکمران ہیں، طالبان عالمی سطح پر خود کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں، طالبان کو اپنی بقاء کیلئے عالمی مدد کی ضرورت ہے، عالمی برادری نے مدد نہ کی تو انتشار کا خدشہ ہے، عالمی برادری نے اگر صورتحال پر توجہ نہ دی تو انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ افغان عوام نے 20 سال میں بہت قربانیاں دی ہیں، افغانستان میں امن و استحکام سے خطے کو فائدہ ہوگا، افغان عوام کبھی بھی کسی کٹھ پتلی حکومت کو قبول نہیں کرتے، موجودہ افغان حکومت عالمی برادری سے تعاون اور مدد چاہتی ہے، وہاں کیا ہوگا کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتحادی ہونے کے باوجود امریکا نے پاکستان میں 480 ڈرون حملے کئے، نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننے سے پاکستان میں مسائل پیدا ہوئے اور دہشت گردوں نے یہاں حملے شروع کردیئے۔

عمران خان نے کہا کہ طالبان حکومت تمام افغان دھڑوں کی نمائندگی حاصل کرلے تو 40 سال بعد امن آسکتا ہے، نئی طالبان حکومت ناکام ہوتی ہے تو افراتفری پھیل سکتی ہے، جس پر تشویش ہے۔

امریکی صدر سے گفتگو کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے امریکی صدر سے بات نہیں ہوئی، جوبائیڈن نے فون نہیں کیا وہ مصروف شخصیت ہیں، اگر میں نائن الیون کے وقت وزیراعظم ہوتا تو افغانستان پر امریکی حملے کی اجازت نہیں دیتا۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان سے عدم اعتماد کی وجہ زمینی حقائق سے امریکا کی قطعی لاعلمی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More