افغان حکومت اس وقت تاریخ کے دورا ہے پر ہے ، عالمی برادری سے تعاون اورقبولیت کی خواہاں ہے، وزیراعظم عمران خان کا ”سی این این” کو انٹرویو

اے پی پی  |  Sep 15, 2021

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، اس وقت تمام افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے، موجودہ افغان حکومت عالمی برادری سے تعاون و مدد اور قبولیت کی خواہاں ہے، افغان عوام کی تاریخ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کٹھ پتلی حکومت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان کو بیرونی قوتوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این” کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چل پڑے، اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مقصد کیلئے امریکہ افغانستان آیا تھا وہ عالمی دہشت گردوں کا خاتمہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان غیر مستحکم ہونے کی صورت میں امکان ہے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے لئے محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے، ہم یہ توقع اور دعا کرتے ہیں کہ 40 سال بعد یہاں امن قائم ہو۔ تاہم اس وقت افغانستان کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی یہ تاریخ ہے کہ اسے کبھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی یہاں پر عوام کی مرضی کے خلاف کوئی کٹھ پتلی حکومت عوام قبول کرتے ہیں، اس لئے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے انہیں مدد کی پیشکش کرنی چاہئے۔

خواتین کے حقوق سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا غلطی ہے کہ باہر سے بیٹھ کر کوئی افغان خواتین کو حقوق دے سکتا ہے، افغان خواتین طاقتور ہیں اور انہیں وقت دیا جائے، افغان خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شروع میں پاکستان نے 50 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان میں حقانی قبیلے کے لوگ بھی تھے، اس قبیلے کے کئی لوگ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پیدا ہوئے، امریکیوں کو حقانی نیٹ ورک کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا ہے، حقانی افغانستان کا پشتون قبیلہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا کل بجٹ 50 ارب ڈالر ہے جو وہ 22 کروڑ لوگوں پر خرچ کرتا ہے، پاکستان کیسے مزید کسی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت پر پاکستان کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو ایک دہشت گرد حملہ میں جاں بحق ہوئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کا اتحادی بننے پر پاکستان کے خلاف کم و بیش 50 عسکریت پسند گروہ حملے کر رہے تھے، اس سب کچھ کے باوجود امریکہ نے بھی پاکستان پر 480 ڈرون حملے کئے، شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی ملک نے اپنے اتحادی ملک پر حملے کئے ہوں۔

وزیراعظم نے پاک سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاک۔افغان سرحد پر ڈرون طیاروں سے سخت نگرانی کی جاتی رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں دوسروں کی جنگ لڑ کر اپنے ملک کو تباہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، بطور وزیراعظم میری ذمہ داری اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More