خاتونِ اول کا دورہ لاہور، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سربراہ سے سوالات

اردو نیوز  |  Sep 15, 2021

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا دورہ کیا ہے۔

بدھ کو لاہور میں خاتون اول نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے مختلف حصوں کو تفصیل سے دیکھا اور انتظامیہ سے سوال و جواب کیے۔ 

خاتون اول کے اس دورے کے موقع پر انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں صرف سرکاری میڈیا موجود تھا۔ 

سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے جانے والی تیرہ منٹ کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ نے انسٹیٹیوٹ کی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ادارے کے سربراہ نے خاتون اول کو نئی عمارت کے مختلف حصوں اور خدمات کے بارے میں بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران بشریٰ بی بی نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سربراہ سے کہا کہ ’آپ کو یہاں آئے دو ہفتے ہوئے ہیں اس لیے آپ کو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آپ یہ بتائیں آپ کا اس ادارے میں تبدیلی لانے کے لیے کیا لائحہ عمل ہے؟ اپنا ویژن بتائیں۔‘

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سربراہ نے وزیراعظم کی اہلیہ کو جواب دینے کی کوشش کی تو ان سے کہا گیا کہ ’آپ اپنا ویژن ایک کاغذ پر لکھ کر بتائیں، پرانی عمارت کو دیکھیں اس کا کیا حال ہے۔ نہ صرف عمارت کے بارے میں تحریری طور لکھ کر دیں بلکہ مریضوں کی صحت اور بحالی کے حوالے سے بھی اپنا ویژن لکھیں، میں واپسی پر اس کو دیکھوں گی۔ 

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان لاہور کے دورے پر ہیں جہاں وہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ وہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔

وزیراعظم کا یہ دورہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں تحریک انصاف کی ہار اور ترقیاتی کاموں کی پیش رفت سے متعلق بتایا جا رہا یے۔ بشریٰ بی بی بھی وزیراعظم کے ہمراہ لاہور کا دورہ کر رہی ہیں۔ 

خاتون اول اس سے پہلے بھی لاہور میں بنائی جانے والی پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ حالیہ دورے میں انہوں نے آدھے گھنٹے کے لیے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا دورہ کیا اور مختلف احکامات جاری کیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More