آبدوز تنازع: فرانس کا امریکہ اور آسٹریلیا پر جھوٹ بولنے، دوغلے پن کا الزام

اردو نیوز  |  Sep 19, 2021

فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا پر نئے سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے  پیدا ہوانے والے بحران میں جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے۔

برطانیہ، امریکہ اور اور آسٹریلیا کے درمیان طے پانے والے نئے سکیورٹی معاہدے کے تحت امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت کی ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔

اس معاہدے کی وجہ سے آسٹریلیا کی جانب سے فرانس کے ساتھ کیا گیا آبدوزوں کی خریداری کا اربوں ڈالرز کا معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا اس بحران کے دوران جھوٹ بولا گیا، دوغلے پن کا مظاہرہ، اعتماد کو ٹھیس اور توہین کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سنگین بحران ابھی جاری ہے۔‘

خیال رہے مذکورہ معاہدے پر فرانس نے احتجاجاً امریکہ اور آسٹریلیا سے اپنے سفیروں کو واپس بلایا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ کی فرانس 24 ٹیلی ویژن سے گفتگو سے اندازہ ہورہا ہے کہ فرانس اس وقت کسی بھی طرح اس بحران کی شدت کو کم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انٹرویو کے دوران وزیرخارجہ نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے خلاف غیر سفارتی زبان استعمال کی۔

انہوں نے امریکہ اور آسٹریلیا سے سفیروں کو وپس بلانے کے غیرمعمولی فیصلے کو ’بہت ہی علامتی‘ عمل قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا کہ ہم کتنے ناراض ہیں۔

خیال رہے فرانس نے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلایا ہے۔

جب فرانسیسی وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ فرانس نے برطانیہ سے اپنا سفیر کیوں واپس نہیں بلایا جب کہ برطانیہ بھی مذکورہ معاہے کا حصہ ہے تو انہوں نے انتہائی سخت جواب دیا۔

‘ہم نے واشنگٹن اور کینبرا سے سفیر حالات کا جائزہ لینے کے لیے واپس بلایا ہے۔۔ برطانیہ سے واپس بلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم ان کے ’مستقل مفاد پرستی‘ کو جانتے ہیں۔ اس پورے ایشو میں برطانیہ کی حیثیت ایک طرح سے تیسرے پہیے کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا نیٹو کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More