یوٹیوب نے پیسے کمانے کا ایک اور طریقہ پیش کردیا

بول نیوز  |  Sep 20, 2021

یوٹیوب پر ویسے تو فی سیکنڈ سیکڑوں پوڈ کاسٹ اپ لوڈ ہوتے ہیں لیکن اب یوٹیوب نے باضابطہ اپنا پوڈ کاسٹ جاری کیا ہے تاکہ لوگوں کی بڑی تعداد اس جانب راغب ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق اس سے قبل یوٹیوب نے ٹک ٹاک جیسی مختصر ویڈیو کے لئے پہلے بھی اپنے صارفین کو ترغیب اور سہولیات پیش کی تھیں۔

دی اپلوڈ کے نام سے یوٹیوب نے اپنے پوڈکاسٹ کی پہلی قسط پیش کی ہے جس میں آگے مزید سہولیات کا اعلان متوقع ہے۔

اس پوڈکاسٹ کا پورا نام ’دی اپلوڈ: دی کریئیٹر اکانومی‘ ہے، اس کا مقصد ہر قسم کے تخلیق کاروں کو اظہار اور رقم کمانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

یوٹیوب سے رقم کمانے کا لگا بندھا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوشل میڈیا میں تحریک پیدا کی جائے اور انہیں اپنے شوق سے آگاہ کیا جائے اس کے بعد متعلقہ شعبے کی ویڈیوز، آڈیوز بنا کر رقم کمائی جائے، اس کے بعد مارکیٹنگ، افلیئٹ مارکیٹنگ اور کاروبار کو وسعت دینا ہوتا ہے۔

لیکن یوٹیوب نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے پوڈکاسٹ میں یوٹیوب کے کامیاب ترین افراد کے انٹرویو نشر ہوں گے۔

وہ کامیاب ترین افراد اپنے سفر اور کامیابی کے ٹوٹکوں کے بارے میں بھی آگاہ کریں گے، اس طرح دی اپلوڈ لوگوں کی رہنمائی کا ایک بہترین پلیٹ فارم بھی بنے گا۔

دوسری جانب خود یوٹیوبرز کو بھی عوام کے ردِ عمل جاننے میں مدد ملے گی جس سے وہ اپنی ویڈیوز بہتر بناسکیں گے۔

اس پوڈکاسٹ کی میزبانی مشہور صحافی برٹنی لیوز کررہی ہیں جو خود ’فورکلرنرڈز‘ نامی مشہور پوڈکاسٹ چلاتی ہیں۔

اس پہلے مرحلے میں للی سنگھ، شالب مارشل اور ایمی چو جیسے مشہور یوٹیوبر بلائے جائیں گے۔

یوٹیوب کےمطابق  دی اپ لوڈ کا مقصد مارکیٹنگ اور بزنس میں اضافہ کرنا ہے، اب ہر بدھ کو اس کی قسط نشر ہوگی اور پہلی قسط 22 ستمبر کو آن ایئر کی جائے گی۔

 صارفین میں اب ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ویڈیو کی بجائے صرف پوڈکاسٹ سننا چاہتےہیں اور یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب نے پوڈکاسٹ پر توجہ مرکوز کررکھی ہے اس کے علاوہ یوٹیوب اب سنجیدہ اور اصل موسیقی پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

گزشتہ برس خود یوٹیوب کے اعدادوشمار سے انکشاف ہوا ہے کہ میوزک اسٹریمنگ کی شرح بڑھی ہے اور یوٹیوب میوزک کے سات کروڑ ستر لاکھ ایسے سبسکرائبر ہیں جو باضابطہ سبسکرپشن کی قیمت ادا کررہے ہیں۔

Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More