پال روسیسابگینا: روانڈا میں نسل کشی کے دوران ہزاروں لوگوں کی جان بچانے والے ’ہیرو‘ کو دہشتگردی کے الزامات میں قید کی سزا

بی بی سی اردو  |  Sep 20, 2021

روانڈا، نسل کشی
Getty Images
اُنھوں نے غیر منصفانہ ٹرائل کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا

آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد فلم ’ہوٹل روانڈا‘ کے مرکزی کردار پال روسیسابگینا اب دہشتگردی سے منسلک جرائم کی پاداش میں کئی سال قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔

فلم ’ہوٹل روانڈا‘ میں روانڈا کی نسل کُشی کے دوران لوگوں کی جان بچانے میں اُن کے کردار کی عکاسی کی گئی تھی۔ دو دہائیوں قبل اُنھوں نے خود کو ایک عام شخص کے طور پر پیش کیا تھا جو غیر معمولی حالات میں پھنس گیا تھا۔

روانڈا کے اس 67 سالہ سابق ہوٹل مینیجر کو نسل کُشی کے دوران ایک ہزار لوگوں کی جان بچانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

اپریل 1994 سے لے کر اگلے 100 دنوں میں ہوتو برادری کے انتہا پسند افراد نے تتسی نسل کے تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو قتل کر دیا تھا۔

پال خود ہوتو برادری کے ہیں اور اُن کی شادی ایک تتسی خاتون سے ہوئی تھی۔ اُنھوں نے اپنی سوانح حیات 'این آرڈنری مین' میں لکھا ہے کہ قاتلوں کو ہوٹل ملے کولینیز میں پناہ لینے والے لوگوں کے قتل سے روکنے پر قائل کرنے کی اُن کی قابلیت کی وجہ سے ان لوگوں کی جانیں بچ پائیں۔

ان کے پاس کچھ نقد رقم تھی اور اس کے علاوہ انھوں نے اس عالیشان ہوٹل میں ٹھہرنے والی کچھ اہم شخصیات سے اپنے تعلقات کا استعمال کیا۔

ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ اُنھیں بلڈنگ خالی کرنے کا کہے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد 'سینکڑوں (جنگجوؤں) نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا تھا جن کے ہاتھوں میں نیزے اور رائفلیں تھیں۔'

وہ کہتے ہیں 'اگلے ایک گھنٹے میں یہ جگہ کسی مقتل میں تبدیل ہو جاتی۔' اس کے بعد وہ فون پر کئی سینیئر حکام سے رابطے کرتے رہے جن میں سے ایک نے اس حملے کو رکوا دیا۔

اُنھوں نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سارا فرق اسی فون کال سے پڑا تھا۔

اُنھوں نے سنہ 2006 میں اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ الفاظ 'زندگی کے طاقتور اوزار' ہو سکتے ہیں مگر اب انھوں نے ہی پال کو جیل پہنچا دیا ہے۔

سنہ 1996 میں اُنھوں نے روانڈا چھوڑ دیا تھا اور وہ مختصر سے ہی وقت میں ہیرو سے ریاست کے دشمن بن گئے، کیونکہ نسل کشی کے بعد کی حکومت پر اُن کی تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ تنقید حکومت کی تبدیلی کے مطالبات میں تبدیل ہو گئی۔

روانڈا، نسل کشی
Getty Images
ڈان چیڈل (بائیں) نے ہوٹل روانڈا میں پال روسیسابگینا کا کردار نبھایا تھا

سنہ 2018 میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے کہا تھا: 'وقت آ گیا ہے کہ ہم روانڈا میں تبدیلی لانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کریں۔ چونکہ تمام سیاسی طریقے آزما لیے گئے ہیں اور ناکام ہوئے ہیں، اس لیے آخری حربہ استعمال کرنے کا وقت ہے۔'

اس وقت تک وہ ’روانڈا موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج‘ نامی اپوزیشن اتحاد کے جلاوطن سربراہ تھے۔ اس گروہ کے عسکری ونگ نیشنل لبریشن فرنٹ پر 2018 میں روانڈا میں حملوں کا الزام بھی عائد کیا جا چکا ہے۔

بیلجیئم میں ٹیکسی ڈرائیوری

صدر پال کگامے کے تحت روانڈا کی حکومت پر جلاوطن مخالفین سے سختی سے نمٹنے کا الزام ہے۔

کگامے تتسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اُنھوں نے اس قتلِ عام کا خاتمہ کرنے والی فورسز کی قیادت کی تھی اور پھر بعد میں صدر بن گئے۔

اُن کے کئی ناقدین مارے جا چکے ہیں یا اُن پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں مگر اُن کی حکومت نے ہمیشہ اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

پال روسیسابگینا طویل عرصے سے روانڈا کے ایجنٹس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

سنہ 2009 میں اُنھوں نے بیلجیئم چھوڑ دیا جہاں وہ پہلے اپنے خاندان کے ساتھ مقیم تھے۔ وہ وہاں سے امریکہ چلے گئے جہاں کئی مرتبہ اُن کے گھر میں نقب زنی کی گئی اور اہم دستاویزات چرائی گئیں۔

پھر سنہ 2005 میں ’ہوٹل روانڈا‘ کی ریلیز کے بعد ان کا ٹھکرائے جانے کا سفر شروع ہوا۔

ایک دہائی تک اُن کی کہانی کافی حد تک نامعلوم رہی تھی اور اس دوران وہ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ٹیکسی چلا رہے تھے۔

اُن کی کہانی سنہ 1998 میں نسل کشی کے بارے میں صحافی فلپ گوریویچ کی کتاب میں سامنے آئی تھی لیکن ہالی وڈ فلم نے اُنھیں عالمی پذیرائی دلوائی جس میں اُن کا کردار ڈان چیڈل نے ادا کیا تھا۔

اس کے بعد پال روسیسابگینا کو کئی ایوارڈز دیے گئے جن میں سنہ 2005 میں امریکہ کے صدر جارج بش کی جانب سے اعلیٰ ترین سویلین اعزاز صدارتی تمغہ آزادی بھی شامل ہے۔ اعزاز دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 'ان کی زندگی ہمیں برائی کی تمام صورتوں کا مقابلہ کرنے کی ہماری اخلاقی ذمہ داری یاد کرواتی ہے۔'

روانڈا، نسل کشی
Getty Images
صدر بش نے اُنھیں امریکہ کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا تھا

ان کے آبائی ملک میں اس فلم کا پریمیئر دارالحکومت کیگالی کے ایک سٹیڈیم میں 10 ہزار لوگوں کی موجودگی میں منعقد کیا گیا تھا اور اس میں اُن کی شرکت بھی متوقع تھی۔

تاہم وہ کبھی روانڈا نہیں گئے۔

اس وقت باضابطہ طور پر بتایا گیا کہ اُن کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے لیکن سکریننگ ایسے موقع پر ہوئی تھی جب اُن کا مؤقف تھا کہ تتسی حکومت میں ہوتو افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اُن کی سوانح حیات سنہ 2006 میں شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب میں اُنھوں نے دیہی روانڈا میں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں انتہائی خوش کن انداز میں بتایا ہے۔ وہ تتسی والدہ اور ہوتو والد کے نو بچوں میں سے ایک تھے۔

اُنھوں نے پھر نسل کشی کے دوران ہونے والے واقعات پر بات کی اور مسئلہ یہیں سے شروع ہوا۔

کتاب کے اواخر میں وہ بتاتے ہیں کہ صدر کگامے 'روایتی افریقی سخت گیر شخص' ہیں اور یہ کہ 'عام تاثر یہ ہے کہ روانڈا پر آج تتسی اشرافیہ کے ایک چھوٹے سے گروہ کی حکومت ہے جو ان ہی افراد کے فوائد کے لیے کام کرتی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

جب 100 دنوں میں آٹھ لاکھ افراد کو قتل کیا گیا

نسل کُشی کا ملزم 26 برس تک گرفتاری سے بچنے کے لیے کہاں روپوش رہا؟

واٹس ایپ نے خاتون کو اپنے بچھڑے خاندان سے ملوا دیا

'خود ساختہ ہیرو'

ایک ایسا شخص جو الفاظ کی طاقت سے محبت کرتا تھا، اس کی باتیں مقبول ہوئیں اور اُنھوں نے ملک کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔

مگر پال روسیسابگینا کی اپنے ملک میں ساکھ گرنے لگی۔

سرکاری میڈیا نے اُن پر تنقید شروع کر دی اور صدر کگامے نے اُنھیں 'خود ساختہ ہیرو' قرار دیا۔

کچھ لوگوں کے نزدیک یہ خود کو چیلنج کرنے والے شخص کی ساکھ متاثر کرنے کا صدر کگامے کا جان بوجھ کر دیا گیا بیان تھا۔

پھر نسل کشی سے بچ جانے والے کچھ لوگوں نے پال روسیسابگینا کی کہانیوں پر اعتراض کرنا شروع کر دیا۔

جلاوطنی کے دوران وہ ہوتو افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے خلاف مزید بولنے لگے۔ اُن کے حامیوں کے نزدیک وہ انسانی حقوق کے محافظ ہیں جو ایک جابرانہ حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

سنہ 2007 میں روسیسابگینا نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ جنگی جرائم کی عدالت کو صدر کگامے کی پارٹی کے چند افراد پر نسل کشی میں مبینہ کردار پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

سنہ 2014 میں یونیورسٹی آف مشیگن میں ایک تقریر کے دوران اُنھوں نے کہا کہ روانڈا کی حکومت کی ایما پر کام کرنے والے پراکسی گروہوں نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں لاکھوں ہوتو پناہ گزینوں کو ہلاک کیا ہے۔

سنہ 2010 میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کچھ تفصیلات سامنے آئی تھیں تاہم روانڈا کی حکومت نے انھیں مسترد کرتے ہوئے انھیں 'خامیوں سے بھرپور اور خطرناک' قرار دیا تھا۔

روانڈا، نسل کشی
Getty Images
روانڈا کی نسل کشی کے دوران تتسی نسل کے افراد کو ہوتو برادری کے شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا

'کگامے واحد جج ہیں'

یہ سارا بیانیہ صدر کگامے کے لیے شاید کافی سخت رہا ہوگا مگر روسیسابگینا کے روانڈا میں حملے کرنے والے نیشنل لبریشن فرنٹ سے تعلقات کی وجہ سے حکام کو اُنھیں گرفتار کرنے کا موقع ملا۔

مگر گذشتہ اگست میں اُن کی حراست انتہائی متنازع رہی۔

اُن کے خاندان نے کہا کہ اُنھیں دبئی میں اغوا کیا گیا اور زبردستی روانڈا لے جایا گیا۔

مگر واقعات کا ایک اور پہلو جو کورٹ میں بتایا گیا وہ اُن کے سابق اتحادی کونسٹنٹین نیومونگیئر کی طرف سے تھا جن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے پال روسیسابگینا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا تھا کہ وہ جہاز اُنھیں برونڈی لے جائے گا۔

صدر کگامے کا کہنا تھا کہ اُنھیں روانڈا زبردستی نہیں لایا گیا تھا بلکہ اُنھوں نے روسیسابگینا کے سفر کو غلط نمبر ڈائل کرنے سے تشبیہ دی اور کہا کہ پورا مرحلہ 'غلطیوں سے پاک' تھا۔

پال کے خاندان نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی، اُنھیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور اُنھیں وکیلوں تک محدود رسائی دی گئی۔

پال روسیسابگینا نے عدالت میں نیشنل لبریشن فرنٹ سے تعلقات سے انکار نہیں کیا۔

'ہم نے اسے مسلح ونگ کے طور پر بنایا تھا، نہ کہ دہشتگرد گروہ کے طور پر جیسا کہ استغاثہ کا الزام ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ فرنٹ نے جرائم کیے ہیں مگر میرا کردار سفارتکاری کا تھا۔'

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے کبھی کسی کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کہا تھا۔

مگر رواں سال کے اوائل میں اُنھوں نے ٹرائل سے دستبرداری کا فیصلہ یہ مؤقف اپناتے ہوئے کیا کہ اُنھیں منصفانہ سماعت کا موقع نہیں مل رہا۔

اُن کی بیٹی کیرائن کنیمبا نے بی بی سی کو بتایا: 'وہ سیاسی قیدی ہیں۔' اُنھوں نے مزید کہا کہ 'پال کگامے عدالت کے واحد جج ہیں' اور کہا کہ اکگامے کا اُن کے والد کے ساتھ 'ذاتی جھگڑا' ہے۔

چنانچہ کیرائن کو اپنے والد کے خلاف آنے والے فیصلے پر کوئی حیرت نہیں اور عدالت وہ فورم تھا جہاں پال روسیسابگینا لوگوں کو قائل کرنے کی الفاظ کی طاقت کام میں نہ لا سکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More