مجھے بیڈمنٹن کے ریکٹ سے مار پڑتی تھی، اداکارہ کاجول کا انکشاف

اردو نیوز  |  Sep 22, 2021

انڈین فلم انڈسٹری کی مقبول اداکارہ کاجول کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بغیر کسی ڈر خوف کے بول جاتی ہیں چاہے وہ کیریئر کے بارے میں ہو یا نجی زندگی کے بارے میں۔

وہ اس حد تک صاف گو ہیں کہ اس عادت کے باعث انہیں مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق حال ہی میں اداکارہ کاجول نے اپنی والدہ کی سخت تربیت کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ وہ انہیں بیڈمنٹن کے ریکٹ سے مارا کرتی تھیں۔

کاجول کا کہنا ہے کہ ان کی 13ویں سالگرہ پر والدہ نے کہا تھا ’میں دوبارہ تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گی تاہم اگر تمہیں درست کرنا پڑا تو میں کروں گی۔ لیکن میں تمہیں کبھی بچے کی طرح محسوس نہیں ہونے دوں گی، آج تم نو عمر اور بالغ ہو۔ اور اس دن کے بعد سے میں نے اپنے ایکشنز کی ذمہ داری لی۔‘

انہوں نے بتایا کہ والدہ کی طبیعت سخت تھی اسی لیے انہوں نے عادتیں بھی خراب نہیں ہونے دیں۔

’مجھے بیڈمنٹن ریکٹس اور برتنوں سے مار پڑتی، مجھ پر کئی چیزیں پھینکی گئیں۔‘

کاجول کے مطابق تربیت کے حوالے سے ان کے والد نے کبھی مداخلت نہیں کی اور وہ کہتے کہ ’جو کچھ تمہاری والدہ کہتی ہیں وہی تمہارے لیے صحیح ہے اور میں اس پر بحث نہیں کروں گا۔‘

کاجول نے کہا کہ والدہ سخت قسم کی تھیں اس کے لیے انہوں نے عادات کو خراب نہیں ہونے دیا۔ (فوٹو: کاجول انسٹاگرام)والدین کی علیحدگی کے حوالے سے بالی وڈ اداکارہ نے کہا کہ اگر میں یاد کروں تو وہ دو مختلف لوگ تھے جو پہلے ہی علیحدہ ہو چکے تھے۔

کاجول کا کہنا ہے کہ ایک ٹوٹے ہوئے گھر کا اثر ان پر نہیں ہوا۔  ’اس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ والدین کی بھی انفرادی شخصیات ہوتی ہیں۔ وہ بھی اپنی ذات اور خصوصیات میں الگ شخصیت ہوتے ہیں۔ آپ ان سے باقی زندگی صرف والدہ اور والد رہنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ ان دو لوگوں کے بارے میں آپ کو نئے سرے سے جاننا ہوگا۔‘

بورڈنگ سکول کے بارے میں اداکارہ کاجول نے کہا کہ وہ بورڈنگ سکول کے پہلے سال گھر کو یاد کرتی رہیں جبکہ دوسرے سال انہوں نے بورڈنگ سکول سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ان کو سکول واپس لایا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More