قوالی کےبادشاہ نصرت فتح علی کا73واں یوم پیدائش

سماء نیوز  |  Oct 13, 2021

تصویر: سماء ڈیجیٹل

صوفی اور کلاسیکل گائیکی کے بے تاج بادشاہ نصرت فتح علی خان دنیا سے کوچ کرگئے لیکن  قوالیوں کی صورت ایک خزانہ چھوڑ گئے۔

قوالی کے فن سے دنيا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے استاد نصرت فتح علی خان کو آج بھی شدت سے ياد کیاجاتا ہے، ان کا 73واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

تیرہ  اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان نے بطور قوال دم مست قلندر مست مست سے ملک گیر شہرت حاصل کی، انہوں نے قوالی کی صنف میں مغربی انداز متعارف کروایا جسے دنیا بھر میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے ملکی وغیرملکی لا تعداد ایوارڈز اپنے نام کیے۔

نصرت فتح کی قوالیوں نے 1992کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ابتدائی مایوس کن پرفارمنس کے بعد کھلاڑیوں میں کچھ کرنے کا جذبہ ابھارنے میں بھی جس کا اس وقت کے کپتان عمران خان بھی برملا اعتراف کرچکے ہیں۔ معروف کرکٹ کمنٹیٹ منیر حسین کی کتاب ‘ورلڈ کپ کا سفر’ میں درج ہے کہ خان صاحب کی قوالی ‘ دم مست قلندر مست مست ‘ کو ٹیم نے حرزِ جاں بنا رکھا تھا۔

استاد نصرت فتح علی خان کے مشہور گیتوں میں اکھیاں اڈیکدیاں، ایس توں ڈاڈا دکھ نہ کوئی،  میرا پیا گھر آیا، یار نہ بچھڑے، میری زندگی ہے تو، آفرین آفرین، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے اور دلوں میں اتر جانے والی حمد وہی خدا ہے قابل ذکر ہیں۔

قوالیوں کے 125 البم ریلیز کیے جانے کی وجہ سے نصرت فتح علی خان کا نام گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا۔

آسکرایوارڈ یافتہ بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے اپنے ایک انٹرویو میں نصرت فتح علی خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے فن میں صرف استاد نصرت فتح علی خان صاحب کے شیدائی ہیں، انہیں اپنا روحانی استاد تصور کرتے ہیں اور فن موسیقی میں انہی کی تقلید کرتے ہیں۔

انہوں نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کی آمیزش سے ایک نیا رنگ پیدا کیا جس نے نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ جس کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے علاوہ 40 مختلف ملکوں کی جانب سے دعوت بھی دی گئی۔

نصرت فتح علی 16 اگست1997 کو جگر کے عارضے کے سبب لندن کےکرامویل اسپتال میں انتقال کرگئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More