طالبان کی افغانستان کو مستحکم کرنے کی 'کوششوں' کو تسلیم کرتے ہیں: روس

اردو نیوز  |  Oct 20, 2021

روس میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ان کا ملک طالبان کی افغانستان کو مستحکم کرنے کی 'کوششوں' کو تسلیم کرتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزیر خارجہ کا بدھ کو کہنا تھا کہ ’اب نئی انتظامیہ اقتدار میں ہے۔ ہم ان کی فوجی اور سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو مانتے ہیں۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ روس کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کی غیر موجودگی پر افسوس ہے۔

وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور داعش کے خلاف کارروائی کے لیے روس اپنے دارالحکومت ماسکو میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

ان مذاکرات میں پاکستان اور چین سمیت 10 ممالک شامل ہیں۔ یہ افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کی پہلی اہم بین الاقوامی میٹنگ ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ سابق سویت یونین کے ممالک میں حالات خراب کرنے کے لیے داعش کے جنگجو افغانستان میں جمع ہو رہے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف ان مذاکرات کے دوران خطاب کریں گے۔

طالبان کے وفد کی سربراہی ڈپٹی وزیراعظم عبدالسلام حنفی کریں گے جنہوں نے گذشتہ ہفتے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔

برسلز نے افغانستان میں ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے 1.2 ارب ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ نے منگل کو کہا کہ ماسکو میٹنگ کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’افغانستان میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘

ماسکو کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں شمولیتی حکومت کا قیام بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے اور بات چیت کے بعد مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔

روس میں طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود حالیہ برسوں میں کئی مرتبہ روس نے طالبان کے نمائندوں کی میزبانی کی ہے۔

دوسری طرف داعش کی طرف سے طالبان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کی صبح کابل میں طالبان کی ایک گاڑی پر گرنیڈ حملہ کیا گیا۔

اس حملے میں دو طالبان جنگجو اور چار سکول کے بچے زخمی ہوئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More