غائب ہوتےپہاڑی بھوت:برفانی تیندوے نےکیسےنوجوان کی زندگی بدل ڈالی

سماء نیوز  |  Oct 27, 2021

گلگت بلتستان میں واقع پاک چین سرحدی علاقے سوست میں سردیاں اپنا جوبن گزار کر اب موسم بہار کے لیے علاقہ چھوڑ کر جانے والی تھیں لیکن وہ رات بھی کچھ کم سرد نہیں تھی جب گہری نیند میں ڈوبے امتیاز احمد کی آنکھ اچانک کھل گئی جس کی وجہ اس کے گھر کے پچھواڑے سے اٹھنے والی کچھ دبی دبی چیخیں تھیں۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھے اور گرم شال لپیٹ کرگھر کے عقبی احاطے کی طرف دوڑ پڑے جہاں ان کے مویشیوں کا ریوڑ دن بھر پہاڑوں کی خاک چھاننے کے بعد واپس آ کر آرام کیا کرتا تھا لیکن اس وقت وہ اس بات سے قطعی بے خبر تھے کہ اگلے چند گھنٹے کس طرح ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو ایک نئی اور کامیاب ڈگر پر لے جائیں گے۔

مویشیوں کے باڑے میں پہنچ کر امتیاز احمد نے دیکھا کہ ایک برفانی تیندوا ان کی درجن بھر بھیڑوں کو چیر پھاڑ کر ان میں سے کچھ کو کھانے میں مصروف ہے۔ ایک خطرناک جنگلی جانور کی موجودگی کے خوف کے باوجود وہ کسی طرح میں اپنے کمرے سے کیمرہ لے آئے اور اس میں ایک پندرہ سیکنڈ طویل منظر قید کرلیا جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برفانی تیندوے کی موجودگی کے ابتدائی ڈیجیٹل ثبوتوں میں سے ایک تھا۔

برفانی تیندوے بلند ترین مقامات کے باسی ہوتے ہیں جہاں موسم اس تیزی سے رنگ بدلتا اور شدت اختیار کرجاتا ہے جو انسانی تصور سے باہر ہوتا ہے۔ برفانی تیندوا شکاری جانوروں میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے جو ان علاقوں میں ماحولیاتی نظام کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کرادار نبھاتا ہے تاہم گزشتہ چند برسوں سے برفانی تیندوے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

آج دنیا گو سست رفتاری سے ہی سہی لیکن ان تیندوؤں سمیت بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایسے بڑے جانوروں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

سوست کے علاقے ناظم آباد کے رہائشی امتیاز احمد کو ان کے مویشیوں کے ساتھ پیش آئے حادثے نے کوہ پیماؤں کے پورٹر سے جنگلی حیات کا ایک منجھا ہوا فوٹوگرافر بناددیا اور وہ اب ورلڈ وائلڈ لائف (فنڈ ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے لیے فوٹوگرافی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سن 2006 سے برفانی تیندوؤں کو اپنے کیمرے میں قید کرنے میں کوشاں ہیں، جسے اس جانور کے لیے ان کا پیار یا جنون کہا جاسکتا ہے۔

خصوصاً سن 2010 کے بعد سے اب تک امتیاز احمد تقریباً ایک درجن کے قریب برفانی تیندے دیکھ چکے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسے جانوروں کا سروے یا انہیں فلمانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہوتا ہے کیوں کہ ان کے مسکن بلند و بالا پہاڑوں میں ہوتے ہیں۔

امتیاز احمد نے ان تیندوؤں کا 3300 فٹ، ایک ہزار فٹ حتیٰ کہ 15 فٹ کے فاصلے سے بھی مشاہدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برفانی تیندوؤں پر تحقیق کرنا ایک ایسی آزاد و لامحدود یونیورسٹی میں پڑھنے کے مترادف ہے جہاں ہر چیز کی کھوج آپ کو خود کرنی پڑتی ہو، جہاں آپ خود ہی شاگرد اور خود ہی اپنے بھی استاد ہوں۔

پہاڑوں کے بھوت

تئیس اکتوبر کو برفانی تیندوؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف نے خنجراب نیشنل پارک کے دھی نالے کے قریب پائے گئے برفانی تیندوؤں کے دو بچوں کی ایک منفرد فوٹیج اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری کی تھی۔

گلگت بلتستان کے مقامی افراد برفانی تیندوؤں کو پہاڑوں کے بھوت کہتے ہیں۔ وہاں کہاوت ہے کہ ایک پری ہر رات اپنے پالتو مارخور کے ہمراہ پہاڑوں پرگھومنے آتی ہے اور اس موقع پر بھوت یا دیو یعنی برفانی تیندوے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے کنزویٹر اجلال حسین ایک اور وجہ سے بھی تیندوؤں کو بھوت کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برفانی تیندوے ایک پراسراریت رکھتے ہیں، وہ ناقابل یقین حد تک سبک رفتار اور شرمیلے ہوتے ہیں اور ان کے جسم کے بال کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ انہیں برفانی علاقے میں تلاش کرپانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ایک سروے کے مطابق تیندوؤں کی کل تعداد 150 سے 200 کے درمیان ہے۔ واضح رہے کہ تیندوے کثیر تعداد میں تو گلگت بلتستان میں ہی ہوتے ہیں تاہم یہ چترال، سوات اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی پائے جاتے ہیں۔

تیندوؤں کا اونچے مقامات سے پیار انہیں ہسپر اور بارپو جسیے گلیشیئرز تک بھی لے جاتا ہے۔ اجلال حسین نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا چوں کہ تیندوے تنہائی پسند واقع ہوئے ہیں اس لیے یہ پہاڑوں کی بلندیوں پر رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عمومی طور پر وہ شکار کی غرض سے نیچے آجاتے ہیں جہاں سے ان کا انسانوں سے تنازعہ شروع جاتا ہے۔

انسان حیوان تنازعہ

گزشتہ برس مٹہ سوات میں لوگوں نے ایک برفانی تیندوے کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تیندوا ایک گاؤں میں گھس آیا تھا اور اس نے دو افراد پر حملہ کردیا تھا جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشیوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

خیبرپختوبخوا کے محمکہ جنگلی حیات کے مطابق تیندوا پہاڑوں پر شدید برف باری کے باعث نیچے آگیا تھا اور گاؤں میں داخل ہوگیا۔

امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں برفانی  تیندوؤں کا انسانی آبادیوں میں گھس آنا معمول کی بات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں ہر سال 10 سے 15 تیندوے مارے جاتے ہیں۔ مقامی آبادی اس جانور کو اپنا دشمن تصور کرتی ہے کیوں کہ وہ ان کے مویشیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔

برفانی تیندوے 15 میٹر تک کی جست لگا سکتے ہیں اور اپنے سے تین گنا وزنی شکار کو بآسانی زیر کرلیتے ہیں اسی وجہ سے یہ مقامی افراد کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوتے ہیں۔

اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جلال الدین کا کہنا ہے انسانوں کا قدرتی وسائل پر بڑھتا انحصار پہلے سے ہی معدومیت کے شکار جانوروں کے مسکن میں مداخلت کا باعث ہے۔

کنزرویٹر اجلال حسین نے کہا کہ حکومت مقامی آبادیوں کو جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے اور سن 1990 میں متعارف کرائے گئے شکار پرمٹ کے اجراء والے پروگرام کے باعث برفانی تیندوؤں کی سلامتی یقنی بنانے میں خاصی مدد ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ملکی و غیر ملکی شکاریوں کو مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے پرمٹ تقریباً 11 لاکھ روپے کی فیس کے عوض دیے جاتے ہیں جس کا 80 فیصد حصہ گاؤں والوں کو دیا جاتا ہے۔ کنزرویٹر نے کہا کہ اس وجہ سے مقامی افراد کنزرویشن پروگرام میں دلچسپی لیتے ہیں اور اس کے علاوہ علاقے میں غیرقانونی شکار کی روک تھام میں بھی مدد کرتے ہیں۔

برفانی تیندوے کیوں اہم ہیں؟

ماہر ماحولیات حیدر رضا کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کا انحصار غذائی زنجیر میں شکاری جانوروں کی موجودگی پر ہوتا ہے اور ایک چھوٹی سی چیونٹی بھی اس نظام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

برفانی تیندوؤں سمیت دیگر گوشت خور جانوروں کی آبادی علاقے میں اسی صورت میں بڑھے گی جب سبزی خوروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا کیوں کہ اس سے اول الذکر کو مزید خوراک ملے گی۔ بالکل اسی طرح مارخور اور آئی بیکس کی تعداد صرف اسی وقت بڑھ سکتی ہے جب علاقے میں ان کے کھانے کے لیے گھاس موجود ہوگی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More