’کورونا ویکسین کی وجہ سے وبا کے پھیلاؤ میں 40 فیصد تک کمی ہوئی‘

اردو نیوز  |  Nov 25, 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ’کورونا ویکسین کی وجہ سے وبا کے پھیلاؤ میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے بدھ کو کہا کہ ’لوگ کورونا ویکسین کے حوالے سے تحفظ کے غلط احساس کا شکار ہورہے ہیں۔‘

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ ’ویکسین شدہ کئی افراد سمجھتے ہیں کہ شاید ویکسین لگوانے کے بعد انہیں مزید کسی اور حفاظتی تدبیر کی ضرورت نہیں ہے۔‘

’ویکسین کی مکمل خوراکیں لگوانے والے افراد کو وائرس سے بچنے اور اس کی دوسروں میں منتقلی روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہنا چاہیے۔‘

ٹیڈروس نے یہ بتاتے ہوئے اصرار کیا کہ ’زیادہ متعدی ڈیلٹا کا مطلب ہے کہ ویکسینز اس وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف اتنی موثر نہیں۔‘

ٹیڈروس نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں تحفظ کے اس غلط احساس کے حوالے سے تشویش ہے کہ ویکسین نے وبا کو ختم کردیا ہے اور جن افراد نے  ویکسین لگوا لی ہے انہیں کوئی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ویکسینز جانیں بچاتی ہیں لیکن وہ بیماری کی منتقلی کو مکمل طور پر نہیں روکتیں۔’

’اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ڈیلٹا کی قسم کی آمد سے پہلے، ویکسینز نے وبا کے پھیلاؤ کو تقریباً 60 فیصد تک کم کردیا تھا۔ ڈیلٹا کے آنے کے بعد یہ شرح تقریباً 40 فیصد تک گر گئی ہے۔‘

انہوں ںے بتایا کہ ’زیادہ تیزی سے منتقل ہونے والی ڈیلٹا کی قسم اب پوری دنیا میں بہت زیادہ غالب ہے۔‘

ٹیڈروس ایڈہانوم نے مزید بتایا کہ ’اگر آپ کو ویکسین لگائی جاتی ہے، تو آپ کو شدید بیماری اور موت کا خطرہ بہت کم ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی آپ کو وائرس منتقل ہونے اور دوسروں کے اس سے متاثر کرنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔‘

’ہم یہ واضح طور پر نہیں کہہ سکتے، یہاں تک کہ اگر آپ کو ویکسین لگائی گئی ہے تو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے رہیں تاکہ آپ وائرس سے متاثر ہوں اور نہ کسی اور کو متاثر کریں جو اس سے مر بھی سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ چہرے کا ماسک پہننا، فاصلہ برقرار رکھنا اور ہجوم سے بچنا چاہیے، اور دوسروں سے باہر یا صرف ہوادار اندرونی جگہ پر ملنا چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More