نوجوان ان طریقوں پر عمل کرتے ہوئے دل کی صحت کا خیال رکھیں!

ڈی ڈبلیو اردو  |  Nov 25, 2021

کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ میں تو جوان ہوں اور دل کی صحت کے مسائل صرف بوڑھوں کے لیے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ خوراک نوجوانوں کے دل کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ دل کی صحت سے محبت ہے تو تمباکو نوشی ترک کر دیں اور اپنے کولہوں کا وزن بھی زیادہ نہ بڑھنے دیں۔

یونیورسٹی میڈیسن برلن سے وابستہ ڈاکٹر بوسینا راؤٹنبرگ صحت مند دل کے لیے تجاویز دیتی ہیں، ''ایک بہت اہم نکتہ صحت مند غذا ہے، اس لیے ہمیں میٹھے مشروبات سے پرہیز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں زیادہ چکنائی والا کھانا، جیسے کہ فاسٹ فوڈ، جو ہمیں ہر کونے پر مل جاتا ہے، اسے ہر روز نہیں کھانا چاہیے۔‘‘

دل کے لیے سب سے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور سبزیاں اور پھل ہیں۔ مثال کے طور پر گوبھی، کیلے بلکہ بادام بھی۔ پوٹاشیم خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے اور کارڈیک اریتھمیا کو روکتا ہے۔ دوسری جانب ملیٹھی یا لیکوریس اتنی اچھی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے بنے میٹھے جسم سے پوٹاشیم کو خارج کرتے ہیں۔ ڈاکٹر بوسینا راؤٹنبرگ بتاتی ہیں، ''لیکوریس کے ساتھ گلُوکو سائیڈ موجود ہوتا ہے اور گلُوکو سائیڈ جسم کے ہارمون میٹابولزم میں مداخلت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کچھ ہارمونز بشمول کورٹیسول کو ٹوٹنے سے روکتا ہے اور پھر ہمارے جسم میں اس کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ کورٹیسول نہ صرف اسٹریس کا ہارمون ہے بلکہ یہ پانی اور الیکٹرولائٹ کے توازن کو بھی متاثر کرتا ہے اور یہ ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر راؤٹنبرگ  کے مطابق  ڈارک چاکلیٹ دل کے لیے بہتر ہے، ''میں نے حال ہی میں ایک پرتگالی تحقیق پڑھی ہے، جس میں 30 مریضوں نے 90 فیصد کوکو پر مشتمل چاکلیٹ کھائی، یعنی 20 گرام  یا دو ٹکڑے روزانہ۔ اور چار ہفتوں میں یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ اس سے بلڈ پریشر کم ہو گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ دن میں 70 سے 90 فیصد والی ڈارک چاکلیٹ کے ایک یا دو ٹکڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔‘‘  

دوسری جانب بہت زیادہ نمک ہمارے دلوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق کھانے کا نمک مسائل پیدا کرتا ہے۔ سوڈیم آئن پانی کے مالیکیولز کو جوڑ دیتا ہے اور اگر جسم میں اس کی مقدار بڑھ جائے تو خون کی نالیوں میں اس کا حجم زیادہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس وجہ سے بلڈ پریشر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ تو نمک کا استعمال کم سے کم کریں۔

ورزش دل کی دھڑکن تیز کرتی ہے اور یہ اچھی بات ہے۔ ڈاکٹر راؤٹنبرگ اس کے حوالے سے بتاتی ہیں، ''دل کی دھڑکن تیز ہونی چاہیے، جسم کو حرکت میں رکھنا چاہیے۔ عام طور پر، آپ ایسکلیٹرز سے بچیں اور لفٹ استعمال نہ کریں۔ اگر آپ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کر رہے ہیں تو ایک اسٹاپ پہلے اُتریں تاکہ آپ کو چلنے کا موقع ملے۔ پیدل چلنے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔‘‘

اتنا ہی اہم ہے کہ آپ سٹریس سے بچیں اور وقت کو مناسب انداز میں تقسیم کریں۔ ڈاکٹر بوسینا راؤٹنبرگ کا کہنا تھا، ''اگر اسٹریس یا تناو مستقل برقرار رہتا ہے تو اس سے بلڈ پریشر بھی مسلسل اوپر نیچے ہوتا ہے، جو نقصان دہ ہے۔ لہذا آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسٹریس کے مرحلے کے بعد آپ 'فعال سکون‘ کے مرحلے میں داخل ہوں۔ 'فعال سکون‘ کا مطلب ہے کہ آپ کو حرکت کرنی چاہیے۔ یہ اسٹریس سے نمٹنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے۔‘‘

تو صحت مند دل کے لیے بہترین تجاویز یہ دو ہیں۔ ایک روزانہ ورزش کریں اور دوسرا روزمرہ کی زندگی میں اسٹریس یا تناؤ کو کم کریں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More