’کترینہ کیف کے گالوں جیسی سڑکیں‘ راجستھانی وزیر ’نامناسب بیان‘ پر مشکل میں

اردو نیوز  |  Nov 26, 2021

راجستھان کے وزیر راجندر سنگھ گودھا کو اپنے اس ویڈیو کلپ کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے جس میں وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان کے حلقے کی سڑکیں کترینہ کیف کے گالوں کی طرح ہونی چاہییں۔

انڈین ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق شمالی انڈیا کی ریاست راجستھان کے حال ہی میں مقرر ہونے والے وزیر اپنے حلقے کے عوام سے خطاب کر رہے تھے جب ہجوم میں سے کسی شخص نے سڑکوں کے حوالے سے شکایت کی۔ جس کے جواب میں وہ یہ ہدایت کرتے ہیں کہ کترینہ کیف کے گالوں جیسی سڑکیں بننی چاہییں۔

راجستھان کے وزیر کا یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین ان کے اس بیان کو ’نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کر رہے ہیں۔

صارفین کانگریس کی جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی جنہوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی اور خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کا عہد کیا ہے، سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس بیان پر اپنا ردعمل دیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی وزیر کی جانب سے ایسا بیان دیا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی ماضی میں کئی وزرا اپنے حلقے میں اداکارہ ’ہیما مالنی کے گالوں جیسی سڑکیں‘ بنانے کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔

#WATCH | "Roads should be made like Katrina Kaif's cheeks", said Rajasthan Minister Rajendra Singh Gudha while addressing a public gathering in Jhunjhunu district (23.11) pic.twitter.com/87JfD5cJxV

— ANI (@ANI) November 24, 2021

لالو پرساد یادیو نے 2005 میں دعویٰ کیا تھا کہ بہار کی سڑک جلد ہی ہیما مالنی کے گالوں کی طرح ہموار ہو جائیں گی۔

2010 میں انہوں نے اپنے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے حریفوں نے ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا۔

مدھیا پردیش کے سابق وزیر قانون پی سی شرما نے 2019 میں ریاست کی سڑکوں کی حالت کو بی جے پی کے رہنما کیلاش وجیاورگیا کے گالوں سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس کی حکومت جلد انہیں (سڑکوں کو) لوک سبھا کی ایم پی ہیما مالنی کے گالوں کی طرح بنا دے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More