کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی اور جرمنی پہنچ گئی

اردو نیوز  |  Nov 28, 2021

برطانیہ، جرمنی اور اٹلی میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ برطانوی وزیراعظم نے اس پر قابو پانے کے لیے ضوابط مزید سخت کر دیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مزید کئی ممالک نے جنوبی افریقہ کے ساتھ سفری پابندیوں کا اعلان کیا ہے جہاں سے سامنے آنے والے نئے کورونا ویرئینٹ نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اتوار کو آسٹریلیا میں حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ جنوبی افریقائی ممالک سے سڈنی آنے والے مسافر میں اومیکرون وائرس کی شناخت کی ہے۔

جرمنی کی ریاست باویریا کی وزارت صحت نے بھی اومیکرون کے دو کیسز کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ جنوبی افریقہ سے دو افراد میونخ ایئرپورٹ کے ذریعے داخل ہوئے اور انہوں نے خود کو آئسولیٹ نہیں کیا تھا۔

اسرائیل میں غیر ملکیوں کی آمد پر پابندیادھر اسرائیل نے کہا  ہے کہ وہ ملک میں تمام غیرملکیوں کا داخلہ بند کرے گا اور وائرس کو روکنے کےلیے موبائل فون ٹیکنالوجی استعمال کرے گا۔

اٹلی نے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹوٹ کا کہنا ہے کہ میلان میں موزمبیق سے آنے والے ایک شخص میں اومیکرون کی شناخت ہوئی ہے۔

چیک رپبلک کے حکام نے بھی کہا ہے کہ وہ نیمیبیا سے آنے والے مشتبہ شخص میں اس ویرئنٹ کی موجودگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم باقیوں کی نسبت زیادہ پھیلنے والی ہے (فوٹو اے ایف پی)برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے اومیکرون کے دو کیسز کی شناخت ہونے کے بعد کہا تھا کہ ان کا تعلق جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں کے ساتھ نکلا۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ برطانیہ آنے والے تمام مسافروں کو اس وقت تک قرنطینہ میں رہنے کی ضرورت ہوگی جب تک ان کا منفی پی سی آر ٹیسٹ نہیں آ جاتا۔

اے ایف پی کے مطابق بورس جانسن کا کہنا تھا کہ دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا دوبارہ لازمی قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم باقیوں کی نسبت زیادہ پھیلنے والی ہے۔

نیدرلینڈز کے حکام نے کہا ہے کہ رواں ہفتے جنوبی افریقہ سے آنے والے جن 61 مسافروں میں کورونا وائرس کی شناخت ہوئی تھی وہ اومیکرون کے کیسز ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More