سیالکوٹ واقعے کو تحریک لبیک سے منسوب کرنا افسوس ناک ہے، ترجمان ٹی ایل پی

بول نیوز  |  Dec 04, 2021

لاہور: تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان کا سیالکوٹ واقعے پر کہنا ہے کہ نجی فیکٹری کے مینیجر سری لنکن شہری پریا نتھاکمار کے بہیمانہ قتل پر افسوس اور دکھ ہے۔ تاہم اس کو تحریک لبیک پاکستان سے منسوب کرنا افسوس ناک ہے۔

ترجمان ٹی ایل پی نے کہا کہ مقتول کے ورثاء اور سری لنکن عوام کے ساتھ مکمل اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان ہر مظلوم کیساتھ اور ہر ظالم کے خلاف کھڑی ہے۔

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ جتنا یہ واقعہ افسوس ناک ہے اُتنا اس کو تحریک لبیک پاکستان سے منسوب کرنا بھی افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کا ذاتی مقاصد کے لیے استعمال انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا نعرہ ہر مسلمان کا نعرہ ہے، ایسے واقعے کو تحریک لبیک سے جوڑنا سراسر ناانصافی ہے۔

ترجما کا کہنا ہے کہ ملک کسی خون خرابے اور فساد کا متحمل نہیں، پاکستان دشمن قوتیں پاکستان میں مذہبی قوتوں کو کچلنے کے لئے مذہب کے نام پر خلفشار، انتشار اور خانہ جنگی کا ماحول چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین پاکستان کی رو سے ہر ایک مذہب والے کو مذہبی آزادی حاصل ہے، چاہے وہ ہندو ہوں یا عیسائی، کسی کو بھی مذہب کے حوالے سے مسلمانوں سے اور مسلمانوں کو ان سے معقول شکایت ہے اور نہ رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہر ذی شعور شخص جانتا ہے استعماری طاقتیں پاکستان میں لسانیت، قومیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کو ایک مدت سے ہوا دینے کی مذموم کوشش کر رہی ہیں۔ اب ایک بار پھر اقلیتوں کے حقوق کے نام پر فسادات کروا کر ناموس رسالتﷺ قانون کے تحفظ سے ہماری توجہ ہٹا کر اپنے مہروں کو استعمال کرکے اس قانون کو ختم کروانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون ناموس رسالت ﷺ پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کے عزائم کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مسلمان بیدار رہیں اور ان کی خفیہ چالوں کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کرتے رہیں۔

ترجمان تحریک لبیک نے مطالبہ کیا کہ واقعے کا پس منظر اور سازش تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کی جائیں اور ملوث کرداروں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے، گستاخی و توہین مذہب کی سزا کیلئے ملکی قوانین موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں قانون اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تو کسی کی جرات نہیں کہ قانون کو ہاتھ میں لے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More